’’ہم پڑھنا چاہتے ہیں مگر ڈر ہے کوئی بم ہمارے سروں پر آگرے گا‘‘:غزہ کے خوف زدہ بچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"انہوں نے ہمیں تعلیم سے محروم کر دیا، انہوں نے سکولوں کو نشانہ بنایا، ہم سیکھنا چاہتے ہیں اور اسکول جانا چاہتے ہیں، مگر خوف یہ ہے کہ کوئی بم ہمارے سروں پر آگرے گا"۔

یہ الفاظ غزہ کے ان مصیبت زدہ بچوں کے ہیں جو50 دن سے جنگ، بمباری، قتل وغارت گری، بھوک، پیاس اور بنیادی انسانی ضروریات سےمحروہیں۔

اگرچہ چار روزہ عارضی سیز فائر سے غزہ کے عوام نے سکون کا سانس لیا ہے مگر جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے وہ سخت خوف زدہ ہیں۔

غزہ میں چار روزہ جنگ بندی کے دوران معصوم بچوں کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں انہیں جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ اپنی پڑھائی کے خواب کی بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بچے غزہ میں جنگ کے دوران درپیش مصائب کا بھی ذکر کررہے ہیں۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے 48 دنوں کے دوران صورت حال پر بات کرتے ہوئے ایک لڑکی نے کہا کہ "انہوں نے ہمیں پڑھنے سے محروم کیا اور تعلیم سے محروم رکھا ہے۔ 48 دن تک ہم بغیر تعلیم کے اسکولوں میں بیٹھی ہیں"۔ اس کا اشارہ اسرائیل کی طرف تھا جس کی مسلسل بمباری سے غزہ کی پٹی میں ہر طرف تباہی پھیل چکی ہے۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے بارے میں ایک بچی نے کہا کہ "وہ کسی بھی وقت اسکولوں اور گھروں پر بمباری کر سکتے ہیں۔ ہم مکمل جنگ بندی چاہتے ہیں۔ ہم تھک چکے ہیں۔ ہمارے بہت سے رشتہ دار بچے مارے جا چکے ہیں، ڈر ہےکسی وقت کوئی بم ہمارے سروں پر آگرے گا"۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ جنگ بندی جس کا آغاز گذشتہ بدھ کو قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی سے ہوا تھا۔ اس میں قیدیوں کے تبادلے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی جمعہ کی صبح ٹھیک سات بجے شروع ہوئی۔ سول قیدیوں کا پہلا گروپ غزہ کی پٹی سے جمعہ کی شام کو ٹھیک چار بجے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا۔

7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیلی سرزمین پر کیے گئے اچانک حملے کے بعد سے غزہ خونریز اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں