بمباری سے شادی والے گھر برباد، فلسطینی جوڑے کی ’یو این‘ سکول میں شادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ کی پٹی میں بسنے والے فلسطینی بدترین مشکلات سے دوچار ہیں۔ اسرائیلی بمباری اور جنگ کے باعث ان کی زندگی کی ہر طرح کی خوشیاں ان سے چھن گئی ہیں۔ بہت سے جوڑے شادی کی تیاریوں کے دوران ہی بمباری سے لقمہ اجل بن گئے۔

غزہ میں ایک ایسا جوڑا بھی ہے جس نے جنگ کی تباہ کاریوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ کے ایک سکول میں اپنی شادی رچا لی۔

اس جوڑے کی شادی آٹھ نومبر کو ہونے والی تھی جو اسرائیلی بمباری کی وجہ سے ملتوی ہوئی۔

اسرائیلی بمباری میں دونوں کے مکانات کو تباہ کر دیا تھا مگر انہوں نے اقوام متحدہ کے سکول میں شادی کی تقریب منعقد کر لی۔

ماجد الدرہ اور سارہ ابو توھہ کی شادی مشرقی غزہ کے المغازی پناہ گزین کیمپ میں ہوئی کیوں کہ ان کے گھروں کو اسرائیلی فوج نے بم باری کر کے تباہ کر دیا تھا۔

دلہن بننے والی دوشیزہ جس کو اکثر سفید لباس میں دیکھا جاتا تھا مگر اس نے شادی کے موقعے پر سیاہ لباس زیب تن کر رکھا تھا۔

شادی کے بعد نوبیاہتا جوڑا اپنے خاندانوں کے ساتھ سکول کے ایک کلاس روم میں رہے گا۔

اسرائیلی بمباری سے شادی کا تمام سامان اور فرنیچر تباہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ لوگ بھی اس سے محفوظ نہ رہے، کیونکہ اس جنگ میں دولہا اور دلہن کے خاندانوں کے درجنوں افراد شہید ہوئے۔

دلہن کی ماں نے کہا کہ سارہ اس کی پہلی بیٹی ہے جس کی شادی ہوئی مگر وہ اپنی پہلی بیٹی کی شادی کی خوشی کا خواب پورا نہیں کر سکی۔ وہ بیٹی کو رخصت کرنے کے لیے اپنے گھر کے بجائے اقوام متحدہ کے سکول کے ایک کلاس روم میں رہنے پر مجبور تھی۔

فلسطینی دولہا اور دلہن نے آئی ڈی پی شیلٹر میں ایک ساتھ انسانی ہمدردی کی جنگ بندی کے بعد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ نہ ہوتی تو وہ دھوم دھام سے شادی کر سکتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں