غزہ کی لڑائی میں احمد الغندور اور ایمن صیام سمیت چار اہم رہنما شہید ہوئے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تحریک حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے حالیہ غزہ کی لڑائی میں اتوار کے روز اپنے چار اہم رہنماؤں کے شہید ہوجانے کا اعلان کیا۔ یہ جنگ 7 اکتوبر کو شروع ہوئی تھی اور 26 نومبر کو اس جنگ کا 51 واں دن تھا۔ 48 دن لڑائی جاری رہی اور پھر تین دن سیز فائر کے گزرے۔ پیر کے روز جنگ بندی معاہدے کے چوتھا اور آخری دن ہوگا۔ منگل کی صبح 7 بجے جنگ بندی معاہدہ ختم ہو جائے گا۔

ٹیلی گرام پر عزالدین القسام بریگیڈز کے آفیشل چینل پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ القسام بریگیڈز اپنے رہنماؤں کے ایک گروپ کی شہادت کا اعلان کر رہا ہے۔ ان کمانڈرز میں عسکری ونگ کے رکن ابو انس احمد الغندور، شمالی بریگیڈز کے کمانڈر وائل رجب، کمانڈر رفعت سلمان اور کمانڈر ایمن الصیام شامل ہیں۔

اسرائیلی ٹی وی چینل 13 نے ایک ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ 25 نومبر کو اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرنے کے لیے اپنی تیاری کرلی تھی۔ یہ آپریشن اس صورت میں کیا جانا تھا اگر حماس مقامی وقت کےمطابق آدھی رات تک اسرائیلی یرغمالیوں کی دوسری کھیپ کو رہا نہ کرتی۔

شہید ہونے والے حماس کمانڈر احمد الغندور
شہید ہونے والے حماس کمانڈر احمد الغندور

قبل ازیں "عزالدین القسام بریگیڈز" نے یرغمالیوں کی دوسری کھیپ کے حوالے کرنے میں اس وقت تک تاخیر کا اعلان کیا تھا جب تک کہ اسرائیل شمالی غزہ کی پٹی میں امدادی ٹرکوں کے داخلے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کردیتا اور معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا۔

ٹائمز آف اسرائیل نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کو ان قیدیوں کی فہرست موصول ہو گئی ہے جنہیں آج اتوار کو رہا کیا جانا تھا۔ اخبار کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام نے حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ کو آگاہ کرنا شروع کیا جن کے نام قطر کی طرف سے سونپی گئی فہرست میں شامل تھے۔ یاد رہے قطر اسرائیل اور تحریک حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں ثالث ہے۔

حماس کمانڈر احمد الغندور اور یحیی سنوار
حماس کمانڈر احمد الغندور اور یحیی سنوار

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اپنے ملک کی اس امید کا اظہار کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو چار دن پر طے شدہ اتفاق سے آگے بڑھایا جائے گا۔ ماجد الانصاری نے کہاکہ ہمیں جس چیز کی امید ہے وہ یہ ہے کہ دو دنوں کے دوران رہائی کی رفتار اور اس چار روزہ معاہدے سے ہمیں جنگ بندی میں توسیع کرنے اور باقی یرغمالیوں کے بارے میں مزید سنجیدہ بات چیت کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے تنازع کے دونوں فریقوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے قطر میں سینئر حکام کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں