گینٹز کا نیتن یاہو سے جنگ کے وقت کے بجٹ سے سیاسی ادائیگیوں کو ہٹانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر بینی گینٹز نے اتوار کے روز مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو جنگ کے وقت کے مجوزہ بجٹ سے تمام سیاسی ادائیگیوں کو ہٹا دیں جو حکومت میں مذہبی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ممکنہ طور پر خطرناک دراڑ پیدا کر رہی ہیں۔

7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کا قتل و غارت غزہ میں جنگ کا سبب بن گیا جس کے فوراً بعد ایک چھوٹے فورم کی جنگی کابینہ میں شامل ہونے کے لیے گینٹز نے اپوزیشن کو چھوڑ دیا۔ گینٹز نیتن یاہو کے بنیادی سیاسی حریف کے طور پر ابھرنے والے رہنما ہیں۔

حتیٰ کہ ایک کابینہ رکن کے طور پر گینٹز نے نیتن یاہو پر تنقید کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی بالخصوص جب وزیرِ اعظم نے حماس کے حملے پر اپنے انٹیلی جنس سربراہوں کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

لیکن بجٹ کا مسئلہ گہرے نتائج کا حامل ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر ایک متزلزل ہنگامی انتظام کو ختم کر سکتا ہے جس میں مرکزی رہنما گینٹز کو نیتن یاہو کے سخت دائیں بازو کے شراکت داروں بشمول وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے ساتھ مجتمع کیا جا سکے۔

گژشتہ سال کے انتخابات کے بعد نیتن یاہو نے سموٹریچ اور دیگر مذہبی جماعتوں کے سربراہان کے ساتھ جو اتحادی معاہدہ کیا تھا، اس کے تحت الٹرا آرتھوڈوکس اور انتہائی دائیں بازو کی اور آبادکاروں کی حامی جماعتوں کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے جانے ہیں۔

نیتن یاہو کو ایک سخت الفاظ والے خط میں جسے گینٹز کے دفتر نے عام کیا ہے، انہوں نے پیر کو ہونے والے وسیع تر کابینہ کے اجلاس کا حوالہ دیا جو بجٹ کی مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق ہو گا۔

گینٹز نے مجوزہ بجٹ میں "اتحادی فنڈز" شامل کرنے کے خلاف اپنی مخالفت کو دہرایا اور کہا کہ جنگی کوششوں یا معاشی ترقی کی حمایت سے آگے کے مقاصد کے لیے کوئی اضافی رقم نہیں ہونی چاہیے۔

اگر میٹنگ ہوتی ہے اور بجٹ اسی طرح رہتا ہے تو گینٹز نے کہا کہ ان کا گروپ "مجوزہ بجٹ کے خلاف ووٹ دے گا اور اس کے اگلے اقدامات کا تعین کرے گا"۔

نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وہ پیر کو بجٹ کو ووٹ کے لیے لائیں گے اور گینٹز کی تنقید کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ "سیاسی دلیل کل بجٹ کا تقریباً ایک فیصد ہے"۔

بیان میں کہا گیا کہ اتحادیوں کے زیادہ تر فنڈز میں کٹوتی کی گئی تھی اور جو باقی رہ گئے وہ غیر سیاسی تھے۔

بنک آف اسرائیل نے بھی بجٹ میں مجوزہ ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹوتیاں ناکافی ہیں اور حکومت کو جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید مالی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں