یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کو ختم کرنے کی پوری کوشش کر رہے: یاھو، غزہ جا کر گفتگو

فوجی حکام کو خدشہ ہے طویل جنگ بندی حماس کو ختم کرنے کی اسرائیل کی کوششوں کو کمزور کر دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ سے یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ انہوں نے آج غزہ کی پٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پٹی میں تعینات فورسز کا معائنہ کیا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے "ایکس" پر کہا کہ وزیر اعظم نے سکیورٹی کا جائزہ لیا، کمانڈروں اور فوجیوں سے بات چیت کی اور دریافت ہونے والی سرنگوں میں سے ایک میں داخل ہوئے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اس جنگ کے ہمارے تین اہداف ہیں۔ حماس کو ختم کرنا، تمام مغوی افراد کو واپس لانا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ غزہ دوبارہ کبھی اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں بنے گا۔ بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ کی پٹی میں کس مقام کا دورہ کیا اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔

اتوار کو غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا تیسرا دن تھا۔ یہ جنگ بندی منگل کی صبح 7 بجے تک جاری رہی گی۔ اسرائیل کو جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم فوجی حکام کو خدشہ ہے کہ طویل جنگ بندی سے حماس کو ختم کرنے کی اسرائیلی کوششیں کمزور پڑ جائیں گی۔

جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے تین دنوں کے دوران حماس نے 39 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے۔ ہر روز 13 اسرائیلی یرغمالی رہا کئے گئے۔ دوسری طرف اسرائیل نے پہلے تین روز میں 117 فلسطینی قیدی رہا کر دئیے ہیں۔

جمعہ اور ہفتہ کو حماس نے 15 غیر اسرائیلی غیر ملکیوں کو بھی رہا کیا۔ ان کی رہائی معاہدے میں شامل نہیں تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں