فلسطین اسرائیل تنازع

پر رونق غزہ پر وحشیانہ اسرائیلی حملے کے بعد ڈرون کیمرے کی آنکھ نے کیا دیکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز سے پہلے اور بعد میں فلسطینیوں کے علاقے میں رائٹرز کی عکس بند کی گئی ڈرون فوٹیج میں ایک مصروف شہری علاقہ نظر آتا ہے جہاں بچے کھیل رہے ہیں اور لوگ اپنے کام کاج میں مصروف ہیں – پھر شکستہ عمارات اور ملبے کے ڈھیروں کا کئی بلاکس تک پھیلا ہوا ایک خوفناک منظر ہے۔

سات اکتوبر سے پہلے عکس بند کی گئی تصاویر میں اسکول، مساجد اور گرجا گھر اور 14ویں صدی کا برقوق اسلامی قلعہ دکھایا گیا ہے۔

لوگ سڑکوں پر چل پھر رہے ہیں یا درختوں کی قطاروں کے ساتھ بنے بلیوارڈ کی سڑک پر گاڑی چلا رہے ہیں۔ ایک منظر میں بچوں کو گدھا گاڑی پر اسکول جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک اور تصویر میں لوگ واٹر پارک میں مزے کر رہے ہیں۔

بحیرۂ روم کے ساحل کے ساتھ واقع غزہ طویل عرصے سے اسرائیلی ناکہ بندی کی زد میں ہے جس نے فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔

حماس کے زیرِ حکومت یہ روئے زمین پر گنجان آباد ترین مقامات میں سے ایک ہے اور کئی سالوں سے معاشی محرومی کا شکار ہے۔ پھر بھی زندگی کسی نہ کسی طور جاری رہتی تھی۔

کچھ فوٹیج میں بیچ پناہ گزین کیمپ، ورزش کا ایک علاقہ اور سنڈر بلاک کے پرہجوم گھروں کو دکھایا گیا ہے جن کے باہر دھلے ہوئے کپڑے لٹکے ہیں۔ یہ جگہ ریاست اسرائیل کے قیام کے قریبی دور میں 1948 کی جنگ کے پناہ گزین خاندانوں اور ان کی آل اولاد کا گھر ہے۔

نصیرات نامی ایک اور پناہ گزین کیمپ میں بچے گلی میں بریک ڈانس کر کے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی بمباری کے آغاز کے بعد عکسبند کردہ ڈرون فوٹیج میں نصیرات میں بڑے پیمانے پر تباہی دکھائی گئی ہے جس میں بڑے بڑے گڑھوں سے دھواں اٹھتا ہے اور منہدم عمارات کے ملبے کے ڈھیر پڑے ہیں۔

7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے مزاحمت کاروں کے حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور بچے بھی شامل تھے۔ تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ واپس لے جایا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر حملہ کر دیا۔

اسرائیل کی طرف سے کئی ہفتوں کے زمینی، سمندری اور فضائی حملوں اور شمالی غزہ میں زمینی حملے میں تقریباً 15,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے کیونکہ لوگ اپنے گھروں سے بھاگ کر پرہجوم انکلیو میں کہیں اور پناہ تلاش کر رہے ہیں۔

ہسپتالوں میں ہلاک شدگان اور زخمیوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد جاری ہے اور خوراک، پانی اور ایندھن کی فراہمی ختم ہو رہی ہے۔

سات اکتوبر کے بعد عکس بند کردہ ڈرون فوٹیج میں تباہ شدہ عمارات کی پوری پوری گلیاں دکھائی گئی ہیں۔ ملبے کے ڈھیروں سے دھواں اٹھتا ہے۔ بڑے رہائشی اپارٹمنٹ بلاکس خطرناک انداز سے ایک طرف جھکے ہوئے ہیں یا ایک دوسرے کے اوپر گرے پڑے ہیں۔

لوگ کھنڈرات کے درمیان گھومتے یا ملبہ اٹھاتے نظر آتے ہیں لیکن وہاں معمول کی سرگرمیاں بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ سڑک پر چند ایک گاڑٰیاں ہیں۔

کئی شاٹس میں دکھایا گیا کہ لوگ ماضی کی تباہ شدہ عماراتوں کے پاس سے گذرتے بظاہر اپنے آبائی علاقوں کو خالی کرکے کہیں اور پناہ کے متلاشی ہیں۔

گذشتہ جمعہ کو شروع ہونے والی ایک مختصر جنگ بندی کے بعد بنائی گئی فوٹیج میں مزید لوگ سڑکوں پر نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن جنوب میں خان یونس سے لے کر شمال میں وسطی زہرہ شہر اور غزہ شہر تک صرف ملبے، اینٹوں اور کنکریٹ کی دھول کے ڈھیر ہیں جہاں پہلے کبھی گھر ہوا کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں