فلسطین اسرائیل تنازع

چند درجن فلسطینیوں کی رہائی کے بعد غرب اردن سے اسرائیل نے تین ہزار کو گرفتار کر لیا

غرب اردن میں فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ، قابض اسرائیلی فوج کے روزانہ چھاپے، تلاشی کی کارروائیاں اور گرفتاری مہم جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں اعلان کردہ مختصر جنگ بندی کے باوجود مغربی کنارے میں اسرائیلی چھاپے اور فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسرائیلی حکومت نے غزہ میں یرغمالیوں کے بدلے میں چند درجن فلسطینیوں کو رہا کیا ہے مگر دوسری طرف اسرائیلی فوج نے غرب اردن سے حالیہ چند دنوں میں سینکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

3200 سے زیادہ گرفتاریاں

فلسطینی محکمہ امور اسیران اور اسیران کلب نے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سات اکتوبر سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے شروع کی گئی گرفتاری مہم کی تعداد 3,200 سے زیادہ فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر نوجوانوں کو ان کے گھروں سے یا اسرائیلی چوکیوں سے اٹھایا گیا۔

آج منگل کو چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں رام اللہ کے مغرب میں واقع بیتونیہ اور کفر عین نامی قصبوں پر دھاوا بول دیا اور دو نوجوانوں کو گولی مار دی جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

مقبوضہ غرب اردن
مقبوضہ غرب اردن

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیتونیہ پر دھاوا بول دیا اور عوفر جیل کے آس پاس موجود فلسطینیوں پر اس وقت گولیاں چلائیں جب وہ قیدیوں کی چوتھی کھیپ کی رہائی کے لیے جیل کے قریب جمع تھے۔

اسرائیلی فورسز نے شمالی مغربی کنارے میں قلقیلیہ پر بھی دھاوا بول دیا، ایک نوجوان کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا۔

گذشتہ روز بھی اسرائیلی فورسز نے الخلیل کے مشرق میں واقع قصبے بنی نعیم میں چھاپوں اور دراندازی کے واقعات میں 26 افراد کو گرفتار کر لیا۔

غرب اردن میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ سات اکتوبر سے جاری ہے۔ گذشتہ جمعہ کو حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے بعد اب تک تقریباً 68 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا ہے جب کہ اس دوران 150 فلسطینیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں