فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل اور حماس دونوں توسیعی جنگ بندی پر کاربند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل فوجی اور حماس کے جنگجو دونوں جنگ بندی کی دو دن کے لیے توسیعی مدت کے دوران بھی عمل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ چار روز کے لیے ابتدائی جنگی وقفے میں پیر کی رات 48 گھنٹوں کی توسیع کا اعالن کیا گیا تھا۔ یہ دو دنوں کی جنگ بندی جو بدھ کے روز ختم ہو جائے گی۔

جنگ کے عبوری وقفے کو دو مزید دنوں کے لیے بڑھانے کا مقصد مزید یرغمالیوں کو رہا کرانا، غزہ میں امدادی سرگرمیاں کو موثر بنانا ہے۔

شمالی غزہ جسے اسرائیلی بمباری کا بدترین سامنا رہا اور سب سے زیادہ تباہی کا نشانا بنایا گیا ہے سے سیاہ دھویں کی اٹھنے والی لکیر دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن فضا میں کوئی اسرائیل طیارہ اڑتا نظر نہیں آرہا ہے۔ آسمان سے اب بمباری ہو رہی نہ زمین سے کوئی ایسی آواز سنی جارہی ہے جسے دھماکوں کی آواز کہا جاسکے۔

11 سالہ گیل گولڈسٹین الموگ، جسے 26 نومبر کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملے کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے کے بعد رہا کیا گیا تھا، شنائیڈر چلڈرن میڈیکل سینٹر میں، اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے کے فوراً بعد ایک عزیز نے گلے لگا لیا۔ 27 نومبر 2023 کو اسرائیل کے شنائیڈر چلڈرن میڈیکل سنٹر کے ذریعہ جاری کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر (رائٹرز)
11 سالہ گیل گولڈسٹین الموگ، جسے 26 نومبر کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملے کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے کے بعد رہا کیا گیا تھا، شنائیڈر چلڈرن میڈیکل سینٹر میں، اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے کے فوراً بعد ایک عزیز نے گلے لگا لیا۔ 27 نومبر 2023 کو اسرائیل کے شنائیڈر چلڈرن میڈیکل سنٹر کے ذریعہ جاری کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر (رائٹرز)

البتہ ہر طرف دیکھا جا سکنے والا ملبہ خاموش نہیں ہے ، اس کی ایک اپنی زبان ہے۔ یہ جنگ بندی سے پہلے کی اسرائیلی بمباری کی کہانی سنا رہا ہے۔ ملبے کے ان ڈھیروں میں سب سے اونچی آواز ہسپتالوں کے ملبے کی ہے ، یہ بھی اسرائیلی بمباری کے گواہ ہیں۔

' الشفاء ہسپتال ' میں تو ایک بڑی اجتماعی قبر بھی موجود ہے۔ یہ اجتماعی قبر حمیت ملی اور ضمیر انسانی کا ملبہ بن کر سامنے ہے۔

ہاں ایک اطلاع منگل کے روز سامنے آئی کہ اسرائیلی ٹینکوں نے شیخ رضوان کے ضلع میں صبح سویرے گولے فائر کیے تھے۔ تاہم اس جنگ بندی کے دوران کی گئی اس گولہ باری سے کوئی کسی جانی نقصان کی اطلاع نسامنے نہیں آئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کسی ہلاکت کو تسلیم کیا نہ اس کا دعویٰ کیا البتہ یہ ضرور کہا ٹینکوں کے یہ گولے غزہ والوں کو انتباہ کرنے کے لیے داغے گئے تھے۔ ' العربیہ ' کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔ وقفے وقفے سے اور جگہ جگہ سے۔ مگر یہ گرفتاریاں زیادہ تر مغربی کنارے سے کی گئی ہیں اور اب تک ان کی تعداد سینکڑوں ہو چکی ہے۔

اسرائیلی فوج نے صبح سویرے مغربی کنارے کے قصبوں بیتونیا اور رام اللہ کے مغرب میں قائم کفر عین میں کارروائیاں کر کے وہاں دو فلسطینی نوجوانوں کو گولی کا نشانہ بنایا ہے۔ گولی لگنے کے کچھ ہی دیر میں ان فلسطینیوں کی شہادت ہو گئی۔ فلسطین کے کمیشن برائے اسیران و سابق اسیران کی طرف سے بتایا گیا ہے مغربی کنارے میں سات اکتوبر سے اب تک 3200 سے زائد فلسطینی گرفتار کیے گئے ہیں۔

اتوار 26 نومبر 2023 کو مغربی کنارے کے قصبے رام اللہ میں اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد 17 سالہ عمر عطشان اپنی ماں کے گلے لگ گیا۔ (اے پی)
اتوار 26 نومبر 2023 کو مغربی کنارے کے قصبے رام اللہ میں اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد 17 سالہ عمر عطشان اپنی ماں کے گلے لگ گیا۔ (اے پی)

ان فلسطینیوں کی اکثریت کو ان کے گھروں سے یا اسرائیلی چیک پوسٹوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج جس کے ترجمان نے کہا ہے کہ عبوری وقفے کو اسرائیلی فوج جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم جنگ بندی کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج جیلوں کے باہر رہا ہونے والے فلسطینیوں کے ساتھ بھی مارا ماری کرتی دیکھی گئی ہے۔ ایک واقعہ ' عوفر جیل ' سے جنگ بندی معاہدے کے تحت رہائی پانے والے فلسطینی اسیران کی رہائی کے موقع پر پیش آیا۔ عوفر جیل کے باہر فلسطینی خاندانوں کے لوگ اپنے پیاروں کو لینے آئے تھے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان پر ہی چڑھائی کر دی۔

یہاں فلسطینی شہریوں کو حماس اور اسلامی جہاد کے وغیرہ کے پرچم اٹھائے ہو دیکھا گیا۔ فلسطینی وزارت صحت نے عوفر جیل کے باہر ایک فلسطینی کے شہید ہونے کی اطلاع دی ہے۔ لیکن اسرائیلی فوج نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں