بزرگ اسرائیلی خاتون کی غزہ میں قید کے دوران السنوار سے ملاقات میں کیا ہوا؟

حماس کے غزہ کی پٹی کے صدر یحییٰ السنوار سے ملاقات کرنے والی بزرگ اسرائیلی خاتون کو رہا کیا جا چکا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی میں حماس کی قید سے رہائی پانے والے پہلے اسرائیلی قیدیوں میں شامل 85 سالہ اسرائیلی خاتون یوچوڈ لیفشٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ قید کے دوران اس کی حماس کے رہ نما یحییٰ سنوار سے ملاقات ہوئی تھی۔

کل منگل کو تل ابیب میں قیدیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے دوران لیفشٹز نے دعویٰ کیا کہ جب السنوار غزہ کی سرنگوں میں سے ایک میں قیدیوں سے ملنے آئے تومیرا ان سے آمنا سامنا ہوا تھا۔

"تمہیں شرم کیسے نہیں آتی؟"

انہوں نے عبرانی زبان کے اخبار ’داوار‘ کو بتایا کہ "السنوار ہماری آمد کے تین یا چار دن بعد ہم سے ملنے آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ برسوں سے امن کے لیے کوششیں کرنے والوں کے ساتھ بدسلوکی پر تم کیسے شرمندہ نہیں ہو‘‘۔

اسرائیلی امن کارکن نے کہا کہ السنوار نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ خاموش رہا۔

عبرانی اخبار ’ہارٹز ‘ کے مطابق السنوار نے غزہ کی پٹی میں کبوتز نیر عوز سے لے جانے کے اگلے دن کچھ اسرائیلی قیدیوں سے ملاقات کی۔

حماس کے رہنما نے جو اپنے بھائی محمد کے ساتھ تھے نے یرغمالیوں سے کہا کہ "انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور مستقبل میں تبادلے کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر انہیں اسرائیل واپس کر دیا جائے گا"۔

قابل ذکر ہے کہ 23 اکتوبر کو رہا ہونے والی لیفشٹز نے اسرائیل میں اس وقت ہنگامہ برپا کر دیا تھا جب اس نے اپنی رہائی سے قبل ریڈ کراس کے حوالے کرنے کے دوران حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ کے ایک رکن سے مصافحہ کیا تھا۔

اس نے اس وقت اس بات کی بھی تصدیق کی کہ"اس کے اغوا کاروں نے اس کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے قیدیوں کو کھانا اور کپڑے فراہم کیے اور زخمیوں کا علاج کیا‘‘۔

تاہم بزرگ اسرائیلی خاتون نے غزہ کی سرنگوں کے سفر کو جھنم قرار دیا تھا۔

اس نے بتایا کہ اس کے شوہر کو ابھی تک حماس نے حراست میں رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں