غزہ فلسطینی ریاست کا اٹوٹ انگ، اسرائیل جرائم کا مرتکب ہے: فلسطینی صدر

اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف منظم جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ عالمی برادری اسرائیلی جرائم بند کرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی صدر محمود عباس نے بدھ کے روز زور دے کر کہا ہے کہ غزہ میں کوئی ریاست نہیں اور نہ ہی اس کے بغیر فلسطینی ریاست مکمل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کو وجودی خطرے کا سامنا ہے۔ اسرائیلی فوج فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے نشانہ بنانے، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کررہی یہے۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ میں نہ کوئی ریاست ہے اور نہ ہی غزہ کے بغیر کوئی ریاست ہو سکتی ہے۔ غزہ بھی بیت المقدس اور مغربی کنارے کی طرح ایک لازمی اور ناقابل تقسیم فلسطینی ریاست کا اٹوٹ انگ ہے‘‘۔

صدر عباس نے مزید کہا کہ "7 اکتوبر سے اسرائیلی افواج نے غزہ میں ہولناک بین الاقوامی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، جن میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔معصوم اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف وحشیانہ جارحیت، ایک گندی انتقامی جنگ اور نسل کشی شروع کی گئی ہے"۔

نسلی تطہیر اور نسلی امتیاز

فلسطینی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم بین الاقوامی برادری اور تمام بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خاموش الحاق اور آبادکاری کے اقدامات کو روکیں۔ تمام مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں نسلی تطہیر اور نسلی امتیاز کے روزمرہ کےمکروہ ہتھکنڈوں کو بند کیا جائے۔

محمود عباس نے فلسطینی عوام کو اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرنے اور اپنی سرزمین پر اپنی آزادی خود مختاری کے حصول اور آزاد ریاست کو اقوام متحدہ کا مستقل رکن تسلیم کرنے پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں