فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں عارضی سیز فائر کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں:فلسطینی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مندوب نے غزہ میں عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تصدیق کی ہے۔

فلسطینی ایلچی سفیر ریاض منصور نے العربیہ/الحدث کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ لڑائی بند ہونے کے بعد ہم فلسطینیوں کی خواہش کی بنیاد پر سیاسی افق کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ میں مسلسل دباؤ یورپی پوزیشن کو ختم کرنے میں کامیابی کا باعث بنا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اب غزہ کی پٹی میں امن کی حمایت کے بعد اسرائیل کی حمایت میں امریکی انتظامیہ کے موقف کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

جنگ بندی کو طویل مدت کے لیے بڑھانا

باخبر ذرائع کے مطابق اسی دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز منگل کو دوحہ پہنچے جہاں انہوں نے اسرائیلی انٹیلی جنس ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا سے ملاقات کی اورغزہ میں جنگ بندئ کے اگلے مرحلے پر غورکیا۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کے سربراہ برنز اور قطری وزیر اعظم الشیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی کے درمیان قطری دارالحکومت میں خفیہ ملاقاتیں ہوں گی، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان وسیع تر جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پربات چیت شامل ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق برنز کی دلچسپی اس بات پر مرکوز ہے کہ حماس اور اسرائیل دونوں قیدیوں کے معاملے پر اپنی بات چیت کا دائرہ وسیع کریں، جو اب تک صرف خواتین اور بچوں تک محدود ہے، تاکہ معاہدے میں مردوں اور فوجیوں کی رہائی بھی شامل ہو سکے‘‘۔

اس معاملے سے واقف ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اسرائیل کے اس مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ حماس روزانہ کم از کم 10 افراد کو رہا کرے جنگ بندی کو طویل مدت تک بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں