مغربی کنارے میں آٹھ سالہ بچے اور ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا: وزارت صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک آٹھ سالہ بچہ اور ایک نوجوان لڑکا شہید ہو گئے۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "آٹھ سالہ آدم الغل اور 15 سالہ باسم ابو الوفاء قابض فوج کی گولیوں سے مارے گئے۔"

آن لائن اور ٹیلی ویژن کی خبروں میں گردش کرنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک لڑکا گولی کا نشانہ بن کر گلی میں گر رہا ہے اور دوسرے بچوں کو وہاں سے بھگا رہا ہے۔

دیگر تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک نوجوان بھی گولی کا نشانہ بن کر گر رہا ہے، پھر مدد کے لیے پکارتا نظر آتا ہے جبکہ اس کے ارد گرد زمین پر مزید گولیاں لگتی ہیں اور دوسرے لوگ چھپنے کے لیے بھاگتے ہیں۔

نوجوان کو کم از کم نصف منٹ تک بظاہر شدید اذیت میں زمین پر جدوجہد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

فلسطینی ہلالِ احمر کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ لڑکا اور نوجوان وسطی جینین کے مرکزی راستے کے ایک طرف کی سڑک پر تھے۔ یہ علاقہ نظریاتی طور پر اسرائیلی فوج کی حدود سے دور ہے کیونکہ یہ فلسطینی اتھارٹی کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

اے ایف پی کی طرف سے ہلاکتوں کے بارے میں سوال پر فوج نے کہا کہ وہ معلومات کی "تصدیق" کر رہی تھی۔

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے اور اس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف ہونے والی جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد کی آگ بھڑک اٹھی ہے جس میں وزارتِ صحت کے مطابق تقریباً 240 فلسطینی فوجیوں یا اسرائیلی آباد کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں