’ایک کھجور کے درخت کی چھ شاخیں‘ایکسپو 2030ء ’تھیم‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

’ایکسپو2030‘ کی میزبانی سعودی عرب کو ملنے کے بعد مملکت کی طرف سے اس نمائش کے لیے ’لوگو‘ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

ریاض ایکسپو 2030 کا ’لوگو‘ کھجور کے درخت کی شکل میں دکھایا گیا ہے جس کی چھ شاخیں ہیں، جو سعودی عرب کی جڑوں، اس کے ارد گرد کے ماحول اور مستقبل کے عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ چونکہ کھجور کا درخت ایک قومی علامت اور قدرتی عنصر ہے جو طاقت اور لچک کا اظہار کرتا ہے۔ کھجور کے ہر درخت کا نمونہ اور رنگ ہوتا ہے جو اسے دوسرے سے ممتاز کرتا ہے۔ اس طرح ریاض کی خصوصیات کا امتزاج ہے جو کہ اس کے تنوع ، فطرت، فن تعمیر، فنون، ٹیکنالوجی ، سائنس، اور ورثہ جیسی جاندار خصوصیات کی عکاسی کرتا ہے۔

’ایکسپو ریاض 2030‘ کا تھیم تبدیلی کے ایک دور کی کہانی بیان کرتا ہے۔ ایک ساتھ ہم مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں اور ایک ایسی دنیا کا تصور کرتے ہیں جس میں مستقبل کی بہتر پیشین گوئی کی جاتی ہے، جس سے انسانیت کو زیادہ پائیدارمستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا موقع ملتا۔

ریاض ایکسپو 2030 سعودی عرب کے لیے ایک موقع کی نمائندگی کرتا ہے کہ وہ اپنی بے مثال قومی تبدیلی کی کہانی دنیا کے دیگر ممالک اور لوگوں کے ساتھ شیئر کرے۔

کنگڈم کا ویژن 2030 ایک ایسے سفر کے لیے ایک روڈ میپ ہے جس کا مقصد ایک متحرک معاشرے، ایک خوشحال معیشت اور ایک پرجوش قوم کی تعمیر کرنا ہے۔ ریاض ایکسپو 2030 مملکت سعودی عرب کے لیے ایک بے مثال قومی حصول کے لیے اپنی کہانی شیئر کرنے کا ایک مثالی موقع ہوگا جس سے دنیا سعودی عرب میں رونما ہونے والی مثبت تبدیلیوں اور تیز رفتار ترقی کا ملاحظہ کرےگی۔

خیال رہے کہ گذشتہ شام ایکسپو کی بین الاقوامی اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ سعودی دارالحکومت ریاض ایکسپو 2030 کی میزبانی کرے گا۔ پیرس میں قائم بیورو انٹرنیشنل ایکسپوزیشن ڈیس کی جنرل اسمبلی نے حتمی ووٹنگ کے بعد تنائج کا اعلان کر دیا۔

سعودی دارلحکومت کو رکن ممالک نے 165 میں سے 119 ووٹوں کی اکثریت سے منتخب کیا ہے۔

خفیہ رائے شماری الیکڑانک ووٹنگ کے ذریعے کی گئی۔

خبر رساں ایجنسی ایس پی اے اور عرب نیوز کے مطابق ریاض کے ساتھ اٹلی کے دارالحکومت روم اور کوریا کے شہر بوسان کے نام بھی امیدواروں میں شامل تھے۔

سعودی عرب نے اس باوقار ایونٹ کے لیے جنوبی کوریا اور اٹلی کے چیلنجوں کو شکست دینے کے بعد میزبانی کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

ووٹنگ سے قبل مبصرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ’ریاض ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے سب سے زیادہ مضبوط امیدوار اس لیے بھی ہے کہ میزبانی کی شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ملک میزبانی کا زیادہ حق رکھتا ہے جس نے گذشتہ 15 برسوں میں میزبانی نہ کی ہو۔ اٹلی میں 2015 میں ایکسپو ہو چکا ہے جبکہ 2012 میں جنوبی کوریا اس کا میزبان رہا ہے۔‘

سعودی عرب نے ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے سات ارب 20 کروڑ ڈالر کا بجٹ مختص کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں