حماس جنگ کے بعد غزہ پر حکومت نہیں کرسکتی:یورپی کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے جہاں اسرائیلی موقف بدستور برقرار ہے، وہیں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اس معاملے پر اپنے موقف کو دہرایا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "حماس کے غزہ واپس آنے یا اس کے لیے غزہ کی پٹی کے انتظام کی ذمہ دار اتھارٹی کا حصہ بننے کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے"۔

فلسطینی اتھارٹی

انہوں نے بدھ کے روز پولیٹیکو میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ غزہ فلسطینی ریاست کی سرزمین کا حصہ ہے، اس لیے فلسطینی اتھارٹی کو اکیلے ہی اس کا نظم و نسق چلانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ "فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے پاس زندگی بھر کا موقع ہے کہ وہ اپنے درمیان طویل تنازع کا سیاسی حل تلاش کریں"۔ یورپی کمیشن کی صدر کا کہنا تھا کہ "دو ریاستی حل کا جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ امکان نظر آتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ بالآخر کچھ معاملات پر بات چیت کی جائے اور 1967ء کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کے معاملات طے کیے جائیں۔

کئی آپشن

پچھلے مہینے سے امریکا کے علاوہ کئی یورپی ممالک نے جنگ کے بعد کے آپشنز اور گنجان آباد فلسطینی پٹی پر حکومت کرنے کے معاملے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

ان ممالک نے کئی آپشنز پر تبادلہ خیال کیا، جن میں پٹی کی انتظامیہ کو بین الاقوامی فوج کے حوالے کرنےاور غزہ کے انتظام کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل جیسے آپشن پر بھی بات کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں