اسرائیلی بمباری میں کم عمر ترین یرغمالی ہلاک ہوگیا: حماس، تحقیقات کر رہے: تل ابیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا ہے کہ 10 ماہ کا بچہ کفیر بیباس، اس کا 4 سالہ بھائی ارییل اور ان کی والدہ شیری سلورمین اسرائیلی بمباری میں مارے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ القسام کے اعلان کی تصدیق کر رہی ہے۔ حماس غزہ کی پٹی میں 9 بچوں سمیت تمام یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ تمام یرغمالیوں کی حفاظت کی ذمہ داری حماس پر ہے۔ رائٹرز ابھی تک القسام بریگیڈز کے بیان کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان چھ روز کی جنگ بندی کے بعد مزید سیز فائر کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی خبر کے مطابق ایک اسرائیلی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ زیر حراست افراد کی چھٹی کھیپ جس میں 10 اسرائیلی اور دو روسی شامل ہیں کو رہا کیا جارہا ہے۔

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ تبادلے کے معاہدے کے فریم ورک سے باہر روسی شہریت کے حامل کئی قیدیوں" کو رہا کرے گی۔ چار روز کی جنگ بندی کے بعد اس میں دو روز کی توسیع کی گئی تھی۔ ان دو روز میں ہر روز حماس نے 10 اسرائیلیوں کو 30 فلسطینیوں کے بدلے میں رہا کرنا تھا۔ جنگ بندی کے چھ روز جمعرات کی صبح سات بجے ختم ہو رہے ہیں۔

موسی ابو مرزوق نے "ایکس" پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ آج تک غزہ سے کسی بھی اسرائیلی مرد کو رہا نہیں کیا گیا سوائے روسی نژاد رونی کریوائے کے۔ یہ حماس کی جانب سے روسی صدر پوتین کی موقف کی تعریف کے طور پر ہے۔

ایجنسی فرانس پریس کے مطابق جنگ بندی میں توسیع اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے ہونے والے مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ حماس نے فلسطینی دھڑوں کے ثالثوں کو جنگ بندی میں 4 دن کی توسیع کے لیے مطلع کیا۔ تحریک حماس اس مدت کے دوران اپنے اور مختلف دھڑوں کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کو قائم کردہ طریقہ کار اور انہی شرائط کے اندر رہا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر، مصر اور امریکہ کی طرف سے کا گیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع قریب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں