امریکا کا اسرائیل پرجنوبی غزہ پر حملے میں شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دو امریکی عہدے داروں نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکا اسرائیل سے جنگی زون کو کم کرنے اور ان جگہوں کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جہاں فلسطینی شہری کسی بھی اسرائیلی کارروائی کے دوران جنوبی غزہ کی پٹی میں حفاظت کے لیے پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس انتباہ کا مقصد شمالی غزہ کی نسبت جنوبی غزہ میں کسی بھی فوجی مہم جوئی میں شہریوں کی اموات کو کم کرنے میں مدد کرنا ہے۔

امریکی حکام جن میں صدر جو بائیڈن، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع شامل ہیں اسرائیل پر زور دے رہے ہیں کہ اگر اسرائیلی فوج اپنے حملے کو پٹی کے جنوب تک بڑھاتی ہے تو زیادہ محتاط انداز اپنائے۔

پٹی کی 2.3 ملین آبادی کا دو تہائی حصہ شمال میں جنگی زون سے بچنے کے لیے جنوب کی طرف نقل مکانی کرچکا ہے۔

شمال میں اسرائیلی کارروائی نے شدید بین الاقوامی تنقید کو جنم دیا اور بائیڈن کو اسرائیل کے لیے وسیع حمایت کی وجہ سے اندرون ملک تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

دو امریکی اہلکاروں نے کہا کہ واشنگٹن جنوبی غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کو ختم کرنے کی اسرائیل کی خواہش کو سمجھتا ہے لیکن اس کا خیال ہے کہ گنجان آباد علاقے میں مزید احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

ایک اہلکار نےکہا کہ 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بہت سے اہم منصوبہ ساز جنوبی غزہ میں ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ ’’ اسرائیل کی درخواست پر لاکھوں شہریوں کے جنوب کی طرف فرار ہونے کے پیش نظر ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کو اس وقت تک آگے نہیں بڑھنا چاہیے جب تک کہ آپریشنل منصوبہ بندی میں بہت سے معصوم لوگوں کی موجودگی کو مدنظر نہیں رکھا جاتا"۔

امریکی اہلکار نے نشاندہی کی کہ منصوبہ بندی میں معصوم شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شمال میں کی جانے والی کارروائیوں سے سبق حاصل کرنا شامل ہے، جس میں "جنگی زون کو کم کرنا اور ان علاقوں کو واضح کرنا شامل ہے جہاں شہری پناہ لے سکتے ہیں"۔

دوسرے اہلکار نے کہا کہ جب اسرائیل شمالی غزہ پر اپنے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تو امریکی حکام نے اسرائیلیوں کو منصوبہ بندی سے کم طاقت استعمال کرنے اور حکمت عملی، نقل و حرکت، یونٹ کے سائز اور جنگ کے قواعد کے حوالے سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں