فلسطین اسرائیل تنازع

جنگ سے تباہ حال غزہ کی انسانی امداد کے لیے اردن کی بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اردن جمعرات کو ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس میں اقوامِ متحدہ کے اہم اداروں اور علاقائی اور بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں شریک ہوں گی تاکہ جنگ سے تباہ حال غزہ کے لیے انسانی امداد کو منظم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا، اقوامِ متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس اور اس کے اہم ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) جو غزہ کے لیے امداد بڑھانے میں شامل ہیں، کانفرنس میں موجود ہوں گی۔ ان کے ساتھ امدادی کوششوں میں شامل مغربی اور عرب ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

بند دروازوں کے پیچھے منعقد ہونے والی اس کانفرنس سے شاہ عبداللہ خطاب کریں گے جو اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کی حمایت کے لیے مغربی رہنماؤں کو آمادہ کر رہے ہیں جس میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

چار روزہ جنگ بندی جس میں دو دن کی توسیع کی گئی تھی، نے غزہ پر پہلی بار بمباری میں مہلت دی ہے جس سے 2.3 ملین باشندوں پر مشتمل ساحلی علاقے کا زیادہ تر شمالی حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔

بادشاہ نے اسرائیل پر ایک مسلسل بمباری مہم کے ساتھ جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام لگایا ہے جس میں غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق کم از کم 15,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور انکلیو کے محاصرے نے ہفتوں تک ادویات، خوراک اور ایندھن کے داخلے کو روکے رکھا اور بجلی کی سپلائی بند کر دی۔

7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے مزاحمت کاروں کی ہنگامہ آرائی میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہو گئے اور 200 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا گیا جس کے ردِعمل میں اسرائیلی کارروائیاں کی گئیں۔

حکام نے کہا ہے کہ بادشاہ شرکا سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کریں گے کہ وہ انکلیو کا محاصرہ ختم کرے اور اضافی سرحدی گزرگاہیں کھول کر سامان کی بلا تعطل آمد و رفت کی اجازت دے۔

اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا کہ وہ کریم شالوم گذرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے پہلے ہی اسرائیل پر زور دے رہے ہیں جو موجودہ تنازع سے قبل غزہ جانے والے 60 فیصد سے زیادہ ٹرکوں کو لے جانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

فی الحال غزہ میں داخل ہونے کے واحد کھلے ہوئے مقام - رفح - کے راستے امداد لے جانے والے زیادہ تر ٹرکوں کو سب سے پہلے نیتسانا گذرگاہ پر اسرائیلی معائنے سے گذرنا پڑتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ نہ تو ایندھن اور نہ ہی دوہرے استعمال کا ممنوعہ سامان لے جایا جائے۔

امدادی کارکنوں کہتے ہیں کہ معائنہ کے نظام نے اشد ضروری امداد میں تاخیر کی ہے۔

اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن صفادی نے بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں عالمی ادارے پر زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک قرارداد منظور کرے اور کہا کہ "سلامتی کونسل کی خاموشی اسرائیل کے جرائم پر پردہ ڈال رہی ہے۔"

انہوں نے کہا، "سلامتی اور امن کا واحد راستہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کا خاتمہ تھا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں