غزہ کی تباہی فلمانے پر اسرائیل نے فلسطینی شہری کا ڈرون ہیک کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی نے غزہ کی پٹی پر ہفتوں کے اسرائیلی بمباری کی وجہ سے ہونے والی ہولناک تباہی کا انکشاف کیا ہے۔ فلسطینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے پورے کے پورے محلوں کو زمین کے برابر کردینے والی تباہی کو فلم بند کرنا شروع کیا ہے۔

تاہم اسرائیلی فوج نے ایک معروف کارکن کو ایسا کرنے سے روک دیا اور اس کا ڈرون قبضے میں لے لیا۔ یہ کارکن غزہ کی پٹی میں ہونے والی تباہی کی فلم بندی کی کوشش کر رہا تھا۔

فلسطینی کارکن صالح الجعفراوی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے اس کا ڈرون اس وقت کھینچ لیا جب وہ غزہ کے آسمان پر پرواز کر رہا تھا۔ اس کی وجہ سے نوجوان کا ڈرون پر کنٹرول ختم ہوگیا اوراسرائیلی اس ڈرون کو ہیک کرکے لے گئے۔

نوجوان اور اس کے ساتھی نے ڈرون کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ڈرون کے اسرائیلی سرحد میں داخل ہوتے ہی ان کی کوشش ناکام ہوگئی۔

صالح کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کو تقریباً ڈیڑھ ملین فالو کرتے ہیں۔ صالح نے کہا کہ چوروں نے جہاز کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ یہ پہلے دن سے ہی چور ہیں۔

ڈرونز کے ذریعے لی گئی خوفناک ویڈیو کلپس میں شمالی غزہ، جنوب میں خان یونس شہر اور پٹی کے وسط میں الزہراء میں بڑے پیمانے پر تباہی کو دکھایا گیا ہے۔ وہ تمام مقامات پر جہاں پر پہلے رہائشی عمارتیں کھڑی تھیں وہاں پر اب ملبے کے ڈھیر پڑے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ساحلی شہر کی ویڈیوز کی ایک بڑی تعداد کو پھیلایا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کے موقع پر 50 دنوں تک خوفناک بمباری کی گئی ہے۔

یاد رہے حماس اور اسرائیل کے درمیان 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 15 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ان شہدا میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ 24 لاکھ میں سے 17 لاکھ فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں