فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے رہنے والوں کا بھی مستقل جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خان یونس کے مضافات میں ابو تائیمہ کی بستی کے لوگوں نے عارضی جنگ بندی کے دوران اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ یہ کہہ رہے ہیں فلسطینی علاقے کو عارضٰی جنگ بندی نہیں مستقل جنگ بندی چاہیے۔

ان مقامی لوگوں نے بمباری کی وجہ سے اپنا علاقہ اور گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کر لی تھی اور جنگ بندی شروع ہونے تک واپس نہیں پلٹے تھے۔ بدھ کے روز جنگ بندی کا چھٹا دن تھا جب یہ واپس پہنچے۔

جہاد نبی جن کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے اپنی اہلیہ کے ساتھ واپس آئے وہ کہہ رہے تھے' ہم یہ سب تباہی دیکھ کر صدمے میں ہیں، ہم اپنے گھروں کی تباہی دیکھ کر صدمے سے دوچار ہوئے ، اپنی گلیوں میں اور اپنی زمینوں پر ہر جگہ تباہی نظر آئی۔ سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔'

29 نومبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں فلسطینی ملیشیا گروپ حماس اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی کے دوران تنازع کے دوران اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والی ایک مسجد تباہی کا شکار ہے۔ (رائٹرز)

وہ ایک ٹوٹ چکے مکان کی چھت پر کھڑے تھے اور ان کے آس پاس تباہ شدہ عمارتوں کے مناظر ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے ، جنگ سے پہلے یہ پانچ چھ ہزار لوگوں کی بستی تھی ، یہ کہتے کہتے پوچھا ۔۔اب وہ سب کہاں جائیں گے؟

میرا گھر تباہ ہو چکا ، میرے بھائی کا گھر تباہ ہو گیا۔ میرے انکل اور میرے پڑوسی سبھی کے گھر تباہ کر دیے گئے۔ جیسے ہم سب زلزلے والے علاقے میں ہوں، ہمیں جنگ بندی میں وقفہ نہیں مکمل جنگ بندی چاہیے۔'

نبیل ایک اور فلسطینی ہیں۔ یہ بھی ابو تائیمہ کے رہنے والے تھے۔ وہ ایک ملبے میں گھری چھت پر بیٹھ کر شیشہ پی رہے تھے۔ نزدیک ہی بچوں کا ایک گروپ مکانوں کے ملبے کے نزدیک آگ سی جلا کر روٹی گرم کر رہا تھا۔ یہ سب بچے تھوڑی سی روٹی آپس میں مل بانٹ کر کھا رہے تھے۔

29 نومبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس پناہ گزین کیمپ میں فلسطینی ملبے کے درمیان چل رہے ہیں، جب وہ تنازعہ کے دوران اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے مکانات کا معائنہ کر رہے ہیں، اسرائیل اور فلسطینی ملیشیا گروپ حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی کے دوران۔ (رائٹرز) )

تین بچے ایک تباہ ہو چکی کار کی باڈی پر چڑھے۔ نیلے رنگ کی اس کار کی حالت کاغذ کی طرح ہو چکی تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مطابق غزہ کے اب تک اب تک 80 فیصد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایک بڑی انسانی تباہی ہو چکی ہے۔

عبدالرحمان ابو تائیمہ ایک قبیلے کے سردار ہیں انہی کے نام پر اس بستی کا نام ہے۔ وہ اپنے بمباری سے تباہ ہو چکے اپارٹمنٹ سے کچھ تلاش کر رہے ہیں۔ ملبے سے ایک میٹرس اور کچھ کپڑے تلاش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ابو تائیمہ کہتے ہیں ' میں 30 سال سے جدوجہد کر رہا ہوں۔ مگر زندگی ایک ہی راستے پر ہے۔ حتیٰ کہ جنگ سے پہلے بھی ناکہ بندی کی وجہ سے زندگی مشکل بنا رکھی تھی۔ 2007 سے ہی اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔' پیسہ آسانی سے نہیں ملتا۔ کچھ بناتے ہیں تو اچانک پھر تباہ کر دیا جاتا ہے۔'ابو تائیمہ نے مزید کہا ' وقفے وقفے سے جنگ بندی کرنا مسئلے کا حل نہیں ، مسئلے کا مستقل حل نکلنا چاہیے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے تنازعے کا حل چاہیے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں