فلسطین اسرائیل تنازع

قبل از وقت پیدا ہونے والے پانچ بچے غزہ کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ جنگ بندی کے دوران غزہ شہر کے ایک ہسپتال میں پانچ قبل از وقت پیدا ہو نے والے بچے انتقال کر گئے ہیں۔ وزارت صحت نے یہ بات بدھ کے روز بتائی ہے۔

پچھلے جمعہ کے روز 24 نومبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان کی گئی عارضی جنگ بندی سے قبل شمالی غزہ میں اسرائیلی بمباری سے متعدد ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں سے کئی ہسپتالوں کو اسرائیلی فوج نے اپنی جنگی اہداف کے تحت خالی کرا لیا جبکہ ہسپتالوں پر قابض اسرائیلی فوج کے حکم پر مریضوں، زخمیوں اور طبی عملے کے ارکان کو بھی ہسپتالوں سے انخلا پر مجبور ہونا پڑا۔

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کے مطابق جنگ بندی سے پہلے اسرائیلی فوجیوں نے ہسپتالوں کو جانے والے راستوں کو مکمل بند کر کے ہسپتالوں کو بھی محاصرے میں لے لیا تھا۔ انہی زیر محاصرہ لیے گئے طبی مراکز میں 'النصر پیڈریاٹرک' کا انتہائی نگہداشت کا یونٹ تھا۔

اشرف القدرہ نے اس ہسپتال میں قبل از وقت پیدا ہونےوالے پانچ بچوں کی موت کی خبر دیتے ہوئے کہا ' اسرائیلی فوج کے ان انتہائی اقدامات کے باعث ہسپتال کو طبی عملے سے بھی خالی کرا لیا گیا تھا ، تاہم جاری عارضی جنگ بندی کے دوران منگل کی رات کسی طرح ڈاکٹر اور طبی عملے کے کچھ ارکان ہسپتال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

جنہیں معلوم ہوا ہے کہ ہسپتال پر اسرائیلی فوج کے کنٹرول کے دوران ان پانچ ' پری میچور بےبیز' کا انتقال ہوچکا تھا اور ان کی لاشیں گلنا شروع ہو چکی تھیں ۔اشرف القدرہ نے بتایا اسرائیلی فوجیوں کی ہسپتال میں موجودگی کے دوران مریضوں کے لواحقین اور ڈاکٹروں کو ان ' پری میچور ' پیدا ہونے والے بچوں کے شعبے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

اس بارے میں اسرائیلی فوجی ترجمان نے میڈیا نے رجوع کیا تو ترجمان نے کہا 'فوری طور پر اس واقعے کے بارے میں تبصرہ نہیں کریں گے۔ '

واضح رہے ماہ نومبر کے دوران ' الشفاء ہسپتال ' غزہ میں 39 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی زندگیوں کو اس وقت خطرہ لاحق ہونے کی خبریں عالمی میڈیا میں آئیں جب غزہ کے اس سب سے بڑے ہسپتال ' الشفاء پر کئی حملوں کرنے کے بعد اسے اسرائیلی فوج نے باضابطہ محاصرے میں لے لیا اور بعد ازاں اسرائیلی فوج تلاشی لینے کے لیے ہسپتال کے اندر گھس آئی تھی۔

اس دوران ' انکیو بیٹرز ' میں رکھے گئے 8 بچے بجلی بند رہنے کے بعد جاں بحق ہو گئے تھے۔ جبکہ بقیہ 31 'پری میچور' پیدا ہونے والے بچوں کو ' الشفاء ہسپتال ' سے نکال کر دوسری جگہوں پر منتقل کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر مصر منتقل کیے گئے تھے۔ تاہم کچھ بچے مقامی طور پرہی منتقل کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں