فلسطین اسرائیل تنازع

انگریزی کا استاد غزہ میں بے گھر طلباء کو پڑھانے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ کے استاد طارق العنابی اپنے طلباء کی کرسیوں کو ایک دائرے میں ترتیب دیتے ہیں، سلیٹ اور چاک نکالتے ہیں اور اس دن کے لیے اپنے اسباق کی منصوبہ بندی کرتے ہیں: انگریزی میں یہ کیسے کہا جائے کہ "مجھے فلسطین سے محبت ہے۔"

اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً دو ماہ قبل حماس کے مزاحمت کار غزہ کی پٹی سے اسرائیل میں داخل ہوئے اور ملک کی تاریخ کے بدترین حملے میں تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنا لیا اور 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اگلے دن تک -- جو اتوار اور غزہ میں ہفتے کا پہلا دن تھا -- علاقے کے کئی سکول یا تو اسرائیل کی انتقامی بمباری مہم سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہیں بن چکے تھے یا طلباء اور اساتذہ کے یکساں طور پر چلے جانے سے مکمل ویران ہو چکے تھے۔

انگریزی کے 25 سالہ استاد عنابی کو غزہ شہر میں اقوامِ متحدہ کے زیر انتظام اپنا اسکول چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا جس کا لڑائی کے عروج پر اسرائیلی ٹینکوں نے محاصرہ کر لیا تھا۔

لیکن ہفتوں کی لڑائی اور سزا دینے والی اسرائیلی فضائی اور زمینی بمباری مہم کے بعد جس میں غزہ کی حکومت کے مطابق 15,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، عنابی اپنی روزمرہ کی ڈیوٹی پر واپس آ گئے ہیں اور غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح میں بے گھر بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔

ان کا کلاس روم ایک مقامی اسکول کے صحن میں ہے جسے ایک عارضی کیمپ بنا دیا گیا ہے۔

عمارت کے اصل کلاس رومز اب ان خاندانوں کے گھر ہیں جو میزوں کے نیچے گدوں پر سوتے ہیں۔ دوسرے راہداریوں میں سوتے ہیں جہاں انہیں کم از کم رات کی کاٹ دار سردی سے کچھ پناہ مل جاتی ہے۔

اس کے باوجود وہ ہر عمر کے تقریباً 40 لڑکوں اور لڑکیوں کی کلاس کو باہر سلیٹوں اور چاک کا استعمال کرتے ہوئے پڑھاتے ہیں جو یہاں وہاں سے جمع کردہ چھوٹے موٹے عطیات سے حاصل ہوتے ہیں۔

صفائی سے بنی ہوئی سیاہ داڑھی، جینز اور سرمئی رنگ کے سویٹر میں ملبوس استاد اپنے نوجوان طلباء کی کوششوں پر نظر رکھتا ہے جب وہ عربی اور انگریزی دونوں میں "مجھے فلسطین سے محبت ہے" لکھنا سیکھتے ہیں۔

10 سالہ لیان گلابی تتلیوں سے سجا سرمئی کوٹ پہنے اپنا کام پوری توجہ سے کرتی ہے لیکن چند لمحے کے لیے رک کر یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ان کے گھر پر ہونے والی بمباری نے خاندان کو غزہ شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

وہ کہتی ہیں، "اب ہم اس اسکول میں سوتے ہیں۔ انکل طارق ہمیں انگلش سکھاتے ہیں،" اور خوش دلی سے مزید بتاتی ہیں کہ وہ بھی بڑے ہو کر انگلش ٹیچر بننا چاہیں گی۔"

بچوں کی آواز بننا

عنابی کے لیے جنگ کے وقت انگریزی پڑھانا از خود نافرمانی ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "پہلے ہم بچوں کو ان کی مسکراہٹ واپس دیتے ہیں اور انہیں ان کے اسباق پر واپس لے جاتے ہیں۔"

عنابی نے کہا۔ پھر "ہم انگریزی بولنے میں ان کی مدد کرتے ہیں تاکہ ان کی آواز دنیا میں سنی جا سکے۔"

فی الحال وہ تنہا 40 طلباء کو صبح کے وقت اور 40 دیگر کو دوپہر کے وقت پڑھاتے ہیں لیکن انہیں اپنے مقصد کے لیے دوسرے رضاکاروں کو جمع کرنے کی امید ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کی پٹی کے چھوٹے، غربت زدہ اور بہت زیادہ آبادی والے علاقے میں 81.5 فیصد لوگ غریب اور 46.6 فیصد بے روزگار ہیں۔ تقریباً نصف آبادی کی عمر 15 سال سے کم ہے۔

لیکن بار بار ہونے والے تنازعات کے بعد جس نے بہت سے اسکولوں کو تباہ کر دیا ہے اور 17 سال کی اسرائیلی ناکہ بندی -- خاص طور پر تعمیراتی مواد کے معاملے میں – کی وجہ سے بچے لامحالہ تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔

امن کے زمانے میں بھی 180 سے زیادہ اسکولوں کا انتظام کرنے والا اقوامِ متحدہ پیچیدہ ٹائم ٹیبل کا سہارا لینے پر مجبور ہوتا ہے۔

کچھ جگہوں پر دستیاب وقت کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک بچوں کے مختلف گروپس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دن میں کم از کم چند گھنٹے سیکھنے کا موقع مل سکے۔

حماس حکومت کے مطابق موجودہ جنگ کے نتیجے میں 266 اسکول جزوی تباہ ہوئے ہیں جبکہ 67 مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں