غزہ میں مزید ہلاکتوں پر خاموش نہیں رہ سکتے: اردنی فرمانروا

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کمزور طبقات اور جنگوں سے متاثرہ خطوں کے عوام کو شامل کیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مزید نہتے فلسطینیوں کے قتل عام پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ دوسری طرف اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر دوبارہ جنگ شروع کردی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اموات کا خدشہ ہے۔

آج جمعہ کو اردن کے بادشاہ نے متحدہ عرب امارات میں منعقدہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس COP28 میں عرب اور بیرونی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے رہ نماؤں کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

اردن کے بادشاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں ان انسانی المیوں سے الگ تھلگ ہو کر بات کرنا ممکن نہیں ہے جو ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔ ان کا اشارہ فلسطینیوں کو درپیش ان کی زندگیوں کو براہ راست خطرات کی طرف تھا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ کی آبادی صاف پانی اور کم سے کم خوراک پر زندگی بسر کر رہی ہے اور موسمیاتی خطرات کی وجہ سے پٹی پر جنگ کے سانحات کی ہولناکی بڑھ جاتی ہے۔

اردنی فرمانروا نے غزہ کی جنگ سے بہت زیادہ متاثر ہونے والے فلسطینیوں، دنیا بھر میں بحرانوں اور غربت کا شکار کمیونٹیز، پناہ گزین خاندانوں اور میزبان برادریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ کمزور گروہوں کو شامل کرنے اور موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں