فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ پر دوبارہ اسرائیلی بمباری نسل کشی کا نیا خونی باب ثابت ہوگا: فلسطینی ایوان صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے جمعہ کے روز اسرائیل کے غزہ پر اپنے حملے دوبارہ شروع کرنے اور مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج اور آباد کاروں کے حملوں میں اضافے کو "نسلی تطہیر اور نسل کشی کے جرم کا تسلسل" قرار دیا۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے ابو ردینہ کے حوالے سے کہا ہے کہ ''فلسطینی کاز کو ختم کرنے اور اسے غیر موثر کرنے کی جو کوششیں ہماری عوام کے خلاف جارحیت کے آغاز سے جاری ہیں خطے میں کسی کے لیے سلامتی یا امن کی ضمانت نہیں ہوسکتی‘‘۔

ابو ردینہ نے زور دے کر کہا کہ "اسرائیلی حکومت کو ان جرائم اور ان کے تباہ کن نتائج کی پوری ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ امریکی انتظامیہ کو "اسرائیل کو جارحیت کو روکنے کے لیے پابند نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا"۔

اسرائیل نے غزہ میں دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے ساتویں روز کے بعد حماس کے ساتھ دوبارہ لڑائی شروع کرنے کا اعلان کیا اور غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر بمباری شروع کردی جس سے مزید درجنوں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہین۔

حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مزید یرغمالیوں کی رہائی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

قطر نے جمعہ کے روز کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی تجدید کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اسرائیلی بمباری کے دوبارہ شروع ہونے پر اسے گہرا افسوس ہے۔

جنگ بندی کے دوران دوہری شہریوں سمیت کل 83 اسرائیلیوں کو رہا کیا گیا اور ان میں سے زیادہ تر کی صحت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ مزید 24 یرغمالیوں، 23 تھائی اور ایک فلپائنی کو بھی رہا کیا گیا جن میں کئی مرد بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں