فلسطین اسرائیل تنازع

قطر کی ثالثی کی کامیابی: اسرائیل-حماس جنگ بندی کے پسِ پردہ معاملات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

جیسا کہ عالمی رہنماؤں نے گذشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے قطر کو مبارکباد دی تو اس کے مذاکرات کاروں نے اپنی ثالثی کی کوششوں کو اس خوف سے دوگنا کر دیا کہ جنگ بندی شروع ہونے سے پہلے ہی ٹوٹنے والی تھی۔

جنگ بندی اور قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کا معاہدہ کمزور الفاظ میں تھا۔ قطر، فلسطینی علاقوں اور مصر کے ذرائع جو ان اعلیٰ سطحی مذاکرات سے واقف تھے، ان کے مطابق خلیجی ریاستوں کے چھوٹے مذاکرات کاروں کو معلوم تھا کہ اسرائیل اور حماس نے اس وقت تک اس بات پر اتفاق نہیں کیا تھا کہ جنگ بندی اور تبادلے کا معاہدہ کب یا کیسے شروع ہو گا۔

ایک ذریعے نے مذاکرات کے بارے میں بتایا کہ معاہدے کے تمام نکات کو واضح کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری تھا کہ ان کا مطلب اسرائیل اور حماس کے لیے ایک ہی ہو۔

مذاکرات کی نزاکت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے والے ذریعے نے بتایا، مثلاً اسرائیلی فریق نے غزہ کی پٹی کے اندر استعمال ہونے والے ٹینکوں کو "پارک" کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کسی نے اس بات پر اتفاق نہ کیا کہ زمین پر اس کا کیا مطلب تھا۔

قطر کے ایک سرکردہ مذاکرات کار کیریئر ڈپلومیٹ عبداللہ السلیطی پریشان تھے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا، "میں نے سوچا ہم اس معاہدے کو کھونے والے تھے اور یہ طے نہیں ہو سکے گا۔"

ذرائع نے مذاکرات کے بارے میں بتایا کہ توجہ مرکوز رکھنے کے لیے قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے ماسکو اور لندن کے طے شدہ دوروں کو منسوخ کرتے ہوئے اپنا ایجنڈا واضح کر دیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ بدھ 22 نومبر کی سہ پہر کو دوحہ میں اپنے ایک دفتر کے اندر شیخ محمد نے جنگ بندی کی نقاب کشائی کے چند گھنٹے بعد ہی مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا۔

وزیرِ اعظم کی مرکزی ملاقات میں موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا جو جنگ کے آغاز کے بعد کم از کم تیسری بار اسرائیل سے آئے تھے اور مصری انٹیلی جنس افسران کا ایک وفد بھی موجود تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ قطریوں نے حماس کے مندوبین کو بلانے کے لیے ایک علیحدہ کمرہ استعمال کیا جو شہر میں اپنے ولا دفتر میں مقیم تھے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حماس اور اسرائیل نے 23 نومبر کی "صبح سویرے" تک دوحہ میں مذاکرات کیے اور اگلے دن جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے منصوبے پر متفق ہو گئے۔

یہ اکاؤنٹ اس اہم میٹنگ کی تفصیلات ظاہر کرتا ہے جو نو گھنٹے تک جاری رہی اور یہاں پہلی بار بیان کی گئی ہے۔ یہ قطر کی جانب سے شٹل طرز کی بات چیت کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیے گئے طرزِ عمل کی ایک جھلک بھی پیش کرتا ہے جس کے بارے میں مذاکرات میں شامل ایک عہدیدار نے کہا، "مذاکرات کے فریقین کی ایک دوسرے پر اعتماد کی سطح صفر ہے۔"

قطر کی وزارتِ خارجہ، امریکی محکمۂ خارجہ اور دوحہ میں حماس کے سیاسی دفتر نے اس مضمون کے تفصیلی سوالات کا جواب نہیں دیا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے موساد کی نگرانی کرنے والے دفتر نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

"ڈاکیے" نہیں

اس معاملے سے واقف امریکی اہلکار اور مصری سکیورٹی ذرائع کے مطابق ثالثی کے لیے قطریوں کا طرزِ عمل محض ایک سے دوسرے کو پیغامات پہنچانے کے بجائے فعال ہونا اور مذاکرات میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا ہے۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ دوحہ نے پہلے ہی اسرائیل اور حماس کے درمیان مطالبات میں فاصلے کو ختم کرنے کے لیے حل پر زور دینے کی غرض سے ایسے حربے استعمال کیے تھے بالخصوص جب مذاکرات کاروں نے پہلی جنگ بندی کے اعلان سے پہلے یرغمالیوں کا حساس مسئلہ حل کیا تھا۔

ابتدا میں نیتن یاہو انتظامیہ نے کہا کہ وہ اسرائیل میں اسیر فلسطینی قیدیوں کا غزہ کے یرغمالیوں سے تبادلہ نہیں کریں گا۔ مذاکرات سے واقف لوگوں نے کہا کہ حماس نے بڑے مطالبات کیے تھے جس نے 2011 میں ایک اسرائیلی فوجی کی رہائی کے بدلے اسرائیل میں زیرِ حراست 1000 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی حاصل کی تھی۔

فریقین نے بالآخر ہر شہری یرغمال کے بدلے تین فلسطینی قیدیوں کے تناسب پر اتفاق کیا۔

مذاکرات میں شامل قطری عہدیدار نے کہا کہ اہم بات یہ تھی کہ ایک طرف سے پیش کی گئی تجویز میں ترمیم کی جائے جب تک کہ دوسری طرف سے اسے قبول نہ کر لیا جائے۔

انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا۔ "ہم کہتے ہیں 'سنیے، تجویز بھیجنے سے پہلے آپ کے ساتھ بات چیت کا دوسرا دور کریں۔'"

"اگر ہم نے محض ڈاکیے کی طرح صرف خطوط پہنچانے کا فیصلہ کیا تو مجھے شک ہے کہ ہم یہ معاہدہ ختم کر دیں گے۔"

ذرائع نے مذاکرات کے بارے میں بتایا کہ 22 نومبر کو قطری سفراء نے فون پر کام کیا اور مختلف کمروں کے چکر لگاتے رہے۔"

قطری مذاکرات کاروں نے اسرائیل اور حماس کو اس بات پر متفق کرنے کے لیے راہنمائی کی کہ جنگ بندی کے دوران غزہ میں اسرائیلی ٹینک کہاں تعینات کیے جائیں گے۔ اسی طرح انہوں نے ایک معاہدہ کیا کہ اسرائیلی فوجی غزہ کے ہسپتالوں بشمول الشفا جہاں انہوں نے پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں، کو خالی کرنے کے حماس کے مطالبے کو کیسے پورا کریں گے۔

انہوں نے کہا، مذاکرات کار جن میں سے کچھ 2014 سے اسرائیل-حماس ثالثی میں شامل رہے ہیں، کو ایک اہم عنصر پر کام کرنے کی بھی ضرورت تھی: ایک حفاظتی طریقہ کار جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بنایا جائے کہ جنگ بندی میں کوئی چھوٹی سی خلاف ورزی اس کے خاتمے کا سبب نہ بنے۔

انہوں نے کہا وہ تفصیلی منظرناموں کا جائزہ لیتے ہوئے فریقین سے مخصوص طریقہ کار پر منظوری لینے میں کامیاب ہو گئے جن پر انہیں کسی واقعے کی صورت میں عمل کرنا ہو گا مثلاً گولی چلنا یا ٹینک کی نقل و حرکت۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ طریقہ کار جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد فعال ہو گیا تھا جب اسرائیلی فوجیوں نے شمالی غزہ کی طرف جانے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں پر گولیاں چلائیں۔

وائٹ ہاؤس کے فون کال کے ریڈ آؤٹ کے مطابق ملاقات کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر جو بائیڈن سے فون پر بات کی اور اس معاہدے کے نفاذ پر تبادلۂ خیال کیا۔

چند گھنٹوں میں میراتھن سیشن کے ختم ہو جانے کے بعد قطر کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی جمعہ 24 نومبر کو صبح 7 بجے غزہ میں نافذ ہو گی۔

ثالث جس کے پاس جایا جائے

اسرائیل اور حماس دونوں کے ساتھ رابطے کی کھلی لائن رکھنے والے چند ممالک میں سے ایک کے طور پر قطر 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے ساتھ شروع ہونے والی ہفتوں سے جاری جنگ میں ایک سرکردہ مذاکرات کار کے طور پر ابھرا ہے۔ امریکہ کے علاوہ روس نے بھی اپنے "قطری دوستوں" کے کردار کی تعریف کی ہے۔

قطر کی ثالثی پر مغرب میں بھی تنقید کی گئی ہے اور کچھ امریکی اور یورپی سیاست دانوں نے خلیجی ریاست پر حماس کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے جسے وہ دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔

قطری حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے 2012 میں واشنگٹن کی درخواست پر دوحہ میں حماس کے نمائندوں کی میزبانی شروع کی جب فلسطینی مزاحمت کاروں کے سیاسی دفتر کو شام سے بے دخل کیا گیا۔ قطری ذرائع نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو قطر کی طرف سے کی جانے والی تمام مالیاتی منتقلیوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔

قطر کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں گورنمنٹ کے پروفیسر مہران کامراوا نے کہا کہ مزاحمت کار گروپ کی اہم شخصیات سے قطر کا ذاتی تعلق شاید اس تنازعہ میں مؤثر طریقے سے مذاکرات کرنے کی قطر کی صلاحیت کا اہم ترین عنصر ہے۔

انہوں نے کہا۔ "وہ کہتے ہیں، 'دیکھو۔ ہم نے اپنی شہرت کی بھاری قیمت پر ایک دفتر اور نقل و حمل میں مدد فراہم کی ہے۔ ہم صرف وہی تھے کہ جب آپ کو ہماری ضرورت تھی تو ہم آپ کے لیے موجود تھے اور اب وقت آ گیا ہے جب آپ کو یہ احسان لوٹانے کی ضرورت ہے'۔''

حماس کے عہدیداروں سے قربت کے باوجود قطری مذاکرات کاروں نے غزہ میں گروپ کے رہنماؤں سے براہِ راست نہیں بلکہ دوحہ میں مقیم اس کے نمائندوں کے ذریعے بات کی۔ ذرائع نے بات چیت کے بارے میں بتایا کہ 24 نومبر کی جنگ بندی سے قبل ڈیڑھ ماہ میں شدید لڑائی کے دوران بجلی کی بندش یا اسرائیل کی وجہ سے مواصلاتی سلسلہ کئی بار منقطع ہوا، ایک موقع پر تو مسلسل دو دن تک۔

موساد اکثر قطر کے ساتھ اسرائیل کے معاملات میں سفارتی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اس کے بارے میں خلیج میں ایک مغربی ذریعہ نے کہا کہ یہ بھی عمل کو سست کرنے کی وجہ ہے۔

مزاحمت کار گروپ کی طرف سے 7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں نیتن یاہو نے غزہ پر حکمران حماس کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے جس کے بارے میں اسرائیل کہتا ہے کہ انہوں نے 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 240 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

صحت کے حکام کے مطابق جواب میں اسرائیل نے سات ہفتوں تک علاقے پر بمباری کی اور 15,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔

لڑائی میں وقفہ شروع ہونے کے بعد سے غزہ سے تقریباً 100 یرغمالی رہا ہو چکے ہیں جن میں غیر اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے اپنی جیلوں سے کم از کم 210 فلسطینیوں کو رہا کر دیا ہے اور امدادی تنظیموں کو غزہ کے لیے انسانی امداد اور ایندھن کی ترسیل بڑھانے کی اجازت دی ہے۔

لیکن سات دن کی جنگ بندی کے بعد جمعہ کے روز ہی دشمنی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جب تک کہ ایک اور توسیع پر اتفاق نہ ہو جائے۔

جنگ بندی شروع ہونے کے چند دن بعد رائٹرز سے بات کرتے ہوئے قطری ثالث السلیطی نے کہا کہ ابھی کام ختم نہیں ہوا۔

2014 سے اسرائیل اور حماس کی ثالثی میں شامل سرکاری ملازم نے کہا، "شروع میں میں نے سوچا کہ معاہدے کا حصول سب سے مشکل مرحلہ ہو گا۔ لیکن مجھے پتا چلا ہے کہ معاہدے کو برقرار رکھنا بھی ازخود اتنا ہی چیلنجنگ ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں