فلسطین اسرائیل تنازع

مختلف مراحل میں قیدیوں کے تبادلے کے عمل کے لیے تیار ہیں: حماس رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے رہ نما محمود مرداوی نے جمعے کو کہا ہے کہ ان کی جماعت کا اسرائیلی قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے موقف واضح ہے۔ ہم تمام اسرائیلیوں کے بدلے اپنے تمام قیدیوں کی رہائی کے فارمولے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کو ایک بیان میں مزید کہا کہ "ہمارے موقف اور اہداف واضح ہیں۔ ہم قیدیوں کے تبادلے کو مکمل کرنے، غزہ کی پٹی کے خلاف جارحیت کو روکنے، اپنے لوگوں کو بمباری سے بچانے اور تمام سہولیات فراہم کرنے کے حق میں ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل جنگ کی بحالی کو ہم پر اور مذاکرات کار پر دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے لیکن ہمارا موقف سب کو معلوم ہے۔ہم اپنے موقف پر قائم ہیں اور صرف ان کے نفاذ کو قبول کریں گے۔ دوسری صورت میں، اسرائیلی فریق کی جانب سے مزاحمت پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں ناکام ہوں گی"۔

ایک جامع تبادلے کے معاہدے کو ختم کرنے کے امکان کے بارے میں مرداوی نے کہا کہ "ہم نے اس کی تجویز دی تھی، لیکن اسرائیل نے ابھی تک اس پر اتفاق نہیں کیا ہے۔ اسے سیاسی، عسکری اور سلامتی سے متعلق فیصلہ سازی کے اداروں کے اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اپنے اس وژن پر قائم ہیں جو ہم نے جنگ کے پہلے دن پیش کیا تھا۔ ہم ایک مرحلہ وار تبادلے کے عمل کے لیے تیار ہیں اور ہم ’سب کے بدلے سب‘ کے اصول کے تحت معاہدے کے لیےتیار ہیں۔

حماس رہ نما نے مزید کہا کہ "قیدیوں کے ہر گروپ کی ضروریات ہیں جن پر اسرائیلی فریق کو متفق ہونا چاہیے۔ معاہدے کے بعد ان پر عمل درآمد کا عہد کرنا چاہیے۔ فوجیوں کے حوالے کرنے کی شرائط اور تبادلے میں ان سے

خیال رہے کہ حماس رہ نما کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف آج جمعے کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج نے دوبارہ جنگ شروع کردی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد قیدیوں کے تبادلے اور دیگر امور ایک بار پھر معطل ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں