اسرائیلی بمباری میں 2 لبنانی جاں بحق، حزب اللہ نے سرحد پر فوجیوں کو نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے کہا ہے کہ اپنے اتحادی حماس کی اسرائیل کے ساتھ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے تناظر میں وہ بھی لڑائی کے لیے چوکس اور تیار ہے۔ حزب اللہ کے اس بیان سے لبنان اسرائیل سرحد پر دوبارہ جھڑپوں کا امکان بڑھ گیا۔

حزب اللہ نے مزید کہا کہ اس نے ’’لبنان- اسرائیل سرحد‘‘ پر متعدد اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے لبنان سے اسرائیل میں داخل ہونے والے راکٹ کو ناکارہ بنا دیا۔ لبنان کی سرحد کے قریب متعدد اسرائیلی قصبوں میں ممکنہ طور پر راکٹوں کے گھرنے کے خدشہ سے سائرن بجائے گئے۔

حزب اللہ نے اپنے بیانات میں کہا کہ اس نے "مناسب ہتھیاروں" کے ساتھ جل العلام اور المرج کے دو مقامات کے قریب رامیہ بیرکوں اور اسرائیلی فورسز کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل کی بمباری سے حولہ قصبے میں دو شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ قابض فوج نے ڈریماس قصبے پر بھی بمباری کی تھی۔ حزب اللہ کے نمائندے حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ لبنانی سطح پر ہم اس چیلنج کا مقابلہ کرنے، چوکنا رہنے اور اپنے ملک کو پیش آنے والے کسی بھی امکان اور خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہا کہ کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ لبنان کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا اور یہ کہ غزہ کے واقعات لبنان کی صورت حال پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔

سات اکتوبر کو حماس کی اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہوئی اور 8 اکتوبر سے حزب اللہ نے سرحد پر اسرائیلی پوزیشنوں پر تقریباً ہر روز راکٹ حملے کئے ہیں۔ اسرائیل نے بھی لڑاکا طیاروں توپ خانہ سے جنوبی لبنان کو نشانہ بنایا ہے۔ اس جنگ میں لبنان میں تقریباً 100 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں سے 80 حزب اللہ کے ارکان تھے۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 2006 کی جنگ کے بعد یہ لڑائی بدترین ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں