اسرائیلی موساد کی ٹیم غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک بار پھر قطر پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کی اعلیٰ سطح کی ٹیم ہفتے کے روز پھر قطری دارالحکومت دوحہ پہنچی ہے۔ ذرائع کے مطابق موساد ٹیم غزہ کی جاری جنگ میں ایک اور وقفے کے لیے قطری حکام سے بات چیت کرے گی۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے ان ہفتے کے روز ہونے والے قطر موساد مذاکرات میں یرغمالیوں کی نئی ' کیٹیگری' کی رہائی پر زیادہ بات کی جائے گی، یہ مذاکرات پچھلی جنگ بندیوں میں طے پانے والی رہائیوں کے مقابلے میں نسبتاً مختلف ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز کے مذاکارت پہلی والی جنگ بندی سے مختلف نوعیت کی جنگ بندی کے حوالے سے ہوں گے۔ کیونکہ اسرائیل اور حماس جمعہ کے روز جنگ بندی ٹوٹنے سے پہلے بھی ایک مختلف قسم کی جنگ بندی کے نکات اور اہداف پر غور کر رہے ہیں۔

خیال رہے سات اکتوبر سے شروع ہوئی اسرائیل حماس جنگ میں وقفے کے لیے ہونے والے معاہدے پر عمل 24 نومبر سے شروع ہوا تھا۔ یہ وقفہ دو بار توسیع کے ساتھ یکم دسمبر کو ختم ہو گیا۔ جس کے بعد دوبارہ سے اسرائیل نے بمباری شروع کر دی ہے،

اب تک کی نئی بمباری سے اڑھائی سو کے قریب فلسطینیوں کی ہلاکت رپورٹ کی جا چکی ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ اس نے جمعہ اور ہفتہ کے روز دوپہر تک 400 جگہوں کو غزہ میں اہداف بنا کر بمباری کی ہے۔ اسرائیل اور حماس دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگایا ہے۔

اسرائیل نے حماس پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ حماس تمام یرغمالی خواتین کو رہا کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ ایک فلسطینی ذریعے کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کے سلسلے میں ناکامی عورتوں کی رہائی کے ایشو پر ہی ہوئی ہے۔ حماس چاہتا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں کو اپنی حکمت عملی کے تحت ہی رہائی دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں