اسرائیل جنگ کے بعد غزہ میں بفر زون بنانے کا خواہاں ہے: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

مصری اور علاقائی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے کئی عرب ریاستوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ غزہ کی سرحد کے فلسطینی حصے پر ایک بفر زون [غیر جانبدار] علاقہ بنانا چاہتا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے بعد انکلیو کی تجاویز کے حصے کے طور پر مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکا جا سکے۔

تین علاقائی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے اپنے منصوبوں کا تعلق اپنے ہمسایہ ممالک مصر اور اردن کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات سے جوڑا جو 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا۔

یہ اقدام اسرائیل کی جارحیت کے فوری خاتمے کی نشاندہی نہیں کرتا ہے- جو سات دن کی جنگ بندی کے بعد جمعہ کو دوبارہ شروع ہو گئی - لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل مصر یا قطر جیسے مسلمہ عرب ثالثوں کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ وہ جنگ کے بعد کے غزہ کو ایک شکل دینا چاہتا ہے۔

کسی بھی عرب ریاست نے مستقبل میں غزہ میں امن وامان کے قیام یا وہاں کا انتظام سنبھالنے کے لیے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی ہے اور زیادہ تر نے اسرائیل کے حملے کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں 15,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور غزہ کے شہری علاقے وسیع پیمانے پر مسمار ہو گئے۔ حماس نے7 اکتوبر کو اپنے حملے میں 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 200 سے زائد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

تین علاقائی ذرائع نے قومیت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی جن میں سے ایک سینئر علاقائی سکیورٹی اہلکار نے کہا، "اسرائیل چاہتا ہے کہ یہ غیر جانبدار علاقہ (بفر زون) غزہ اور اسرائیل کے درمیان شمال سے جنوب تک ہو تاکہ حماس یا دیگر عسکریت پسندوں کو اسرائیل میں دراندازی یا حملہ کرنے سے روکا جا سکے۔"

مصری، قطری اور ترکی حکومتوں نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ اردنی حکام سے تبصرے کے لیے فوری رابطہ نہ ہو سکا۔

متحدہ عرب امارات کے ایک اہلکار سے جب پوچھا گیا کہ کیا ابوظبی کو بفر زون کے بارے میں بتایا گیا تھا تو انہوں نے براہِ راست جواب نہیں دیا لیکن کہا: "استحکام اور فلسطینی ریاست کے حصول کے لیے متحدہ عرب امارات تمام متعلقہ فریقین کے اتفاقِ رائے سے جنگ کے بعد کے کسی بھی متفقہ انتظامات کی حمایت کرے گا۔"

بفر زون کے منصوبے کے بارے میں سوال پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مشیر برائے خارجہ پالیسی اوفیر فالک نے رائٹرز کو بتایا: "منصوبہ اس سے زیادہ تفصیلی ہے۔ یہ حماس کے (خاتمے) کے بعد کے تین مراحل پر روبعمل لانے پر مبنی ہے۔"

اسرائیلی حکومت کے مؤقف کا خاکہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا تین درجات میں حماس کو تباہ کرنا، غزہ کو غیر فوجی بنانا اور انکلیو کو غیر بنیاد پرست بنانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا۔ "ایک بفر زون غزہ کو غیر فوجی بنانے کے عمل کا حصہ ہو سکتا ہے۔" جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ منصوبے عرب ریاستوں سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں تو انہوں نے تفصیلات پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

عرب ریاستوں نے حماس کا صفایا کرنے کے اسرائیلی ہدف کو ناممکن قرار دیتے ہوئے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ یہ محض ایک عسکری قوت سے کہیں زیادہ ہے جسے شکست دی جا سکے۔

اسرائیل نے ماضی میں تجویز دی تھی کہ وہ غزہ کے اندر بفر زون پر غور کر رہا تھا لیکن ذرائع نے کہا ہے کہ اب وہ غزہ کے لیے اپنے مستقبل کے سکیورٹی منصوبوں کے حصے کے طور پر انہیں عرب ریاستوں کے سامنے پیش کر رہا تھا۔

اسرائیلی فوجی 2005 میں انکلیو سے واپس چلے گئے تھے۔

ایک امریکی اہلکار جس نے شناخت ظاہر نہیں کی، کہا کہ اسرائیل نے بفر زون کا خیال پیش کیا تھا یہ بتائے بغیر کہ کسے پیش کیا۔ لیکن اہلکار نے فلسطینی سرزمین کے حجم کو کم کرنے والے کسی بھی منصوبے کی واشنگٹن کی مخالفت کو بھی دہرایا۔

اردن، مصر اور دیگر عرب ریاستوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے باہر نکالنا چاہتا ہے اور 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت فلسطینیوں کی زمین پر قبضے والی بات کو دہرایا۔ اسرائیلی حکومت ایسے کسی بھی مقصد سے انکار کرتی ہے۔

اسرائیل کے ایک سینئر سکیورٹی ذریعے نے کہا کہ بفر زون کے آئیڈیا کا "جائزہ لیا جا رہا تھا" اور مزید کہا: "اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کتنا گہرا ہو گا اور آیا یہ ایک کلومیٹر یا دو کلومیٹر یا سینکڑوں میٹر (غزہ کے اندر) ہو سکتا ہے۔"

غزہ میں کوئی بھی تجاوزات جو تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) طویل اور تقریباً 5 کلومیٹر (تین میل) اور 12 کلومیٹر (7.5 میل) چوڑائی کے درمیان ہو، وہ اس کے 2.3 ملین لوگوں کو اس سے بھی چھوٹے علاقے میں ٹھونس دے گی۔

واشنگٹن میں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی دفاعی اسٹیبلشمنٹ "غزہ کی سرحد پر کسی طرح کے حفاظتی بفر کے بارے میں بات کر رہی ہے تاکہ حماس سرحد کے قریب فوجی صلاحیتیں جمع اور اسرائیل کو دوبارہ حیران نہ کر سکے۔"

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "یہ ایک حفاظتی اقدام ہے، سیاسی نہیں۔ ہم سرحد کے غزہ کی جانب رہنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔"

اب تک مصر جو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے والی پہلی عرب ریاست ہے اور قطر جس کے اسرائیل سے باضابطہ تعلقات نہیں ہیں لیکن مواصلاتی راستے کھلے ہیں، یہ دونوں ممالک اسرائیل کے ساتھ ثالثی کی بات چیت کا مرکز رہے ہیں جن میں حماس کی قید میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے تبادلے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

توجہ کی منتقلی

مصر کے دو سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے شمالی غزہ کو غیر مسلح کرنے اور بین الاقوامی نگرانی کے ساتھ شمالی غزہ میں بفر زون قائم کرنے کا خیال مصر اور قطر کے ساتھ ثالثی کی بات چیت میں پیش کیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ کئی عرب ریاستوں نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ عرب ریاستیں فریقین کے درمیان حفاظتی رکاوٹ کی مخالفت نہیں کر سکتیں لیکن یہ کہاں واقع ہو گا اس پر اختلاف تھا۔

مصری ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے نومبر میں قاہرہ میں ہونے والی ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ مکمل جنگ بندی کے بدلے میں حماس کے رہنماؤں پر بین الاقوامی سطح پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ ذرائع نے بتایا، ثالثین نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں بات چیت کو پٹڑی سے اتارنے سے بچنے کے لیے اس معاملے کو جنگ کے بعد تک ملتوی کر دینا چاہیے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے ایک ذریعے نے ان رپورٹس کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مزید کہا: "نیتن یاہو کی جنگی کابینہ نے جنگی مشنوں کی تعریف کی ہے: حماس کو تباہ کرنا اور تمام یرغمالیوں کو وطن واپس لانا اور ہم اپنے مشن مکمل ہونے تک کام جاری رکھیں گے۔"

مصری ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ مصر اور قطر کے ساتھ اپنی گفتگو میں اسرائیل بحران کے آغاز میں انتقامی کارروائیوں سے توجہ ہٹا کر "ثالثی کے جاری رہنے پر اپنے مطالبات پر نظرِ ثانی" کے لیے زیادہ آمادگی ظاہر کرنے کی طرف چلا گیا تھا۔

علاقائی ذرائع نے غزہ بفر زون کے منصوبے کا موازنہ اس "سکیورٹی زون" سے کیا ہے جو اسرائیل کے پاس کبھی جنوبی لبنان میں تھا۔ اسرائیل نے لبنان کی حزب اللہ کی طرف سے برسوں کی لڑائی اور حملوں کے بعد 2000 میں اس علاقے کو خالی کر دیا جو تقریباً 15 کلومیٹر (10 میل) گہرا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا جنگ کے بعد غزہ کے لیے اسرائیل کے منصوبے میں حماس کے رہنماؤں کو ملک بدر کرنا بھی شامل ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو 1980 کے عشرے میں لبنان میں اسرائیلی مہم کی عکاسی کرتا ہے جب اس نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی قیادت کو نکال باہر کیا تھا جس نے لبنان سے اسرائیل پر حملے شروع کر دیئے تھے۔

بات چیت سے واقف ایک اور علاقائی عہدیدار نے کہا۔ "اسرائیل حماس کو غزہ سے مکمل طور پر خطے کے دیگر ممالک کی طرف نکال دینے اور بے دخل کرنے کی مہنگی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے جو اس نے لبنان میں کیا تھا لیکن یہ معاملہ ویسا نہیں ہے۔ حماس سے نجات حاصل کرنا مشکل ہے اور یقینی نہیں ہے۔"

ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیل حماس کو پی ایل او جیسا نہیں سمجھتا اور نہ ہی یہ مانتا ہے کہ وہ پی ایل او کی طرح کام کرے گی۔

2007 میں حماس کے کنٹرول میں آنے کے بعد غزہ کی پٹی سے نکالے گئے فلسطینی دھڑے الفتح سے تعلق رکھنے والے غزہ کے سابق سکیورٹی چیف محمد دحلان نے کہا اسرائیل کا بفر زون منصوبہ غیر حقیقت پسندانہ ہے اور یہ اسرائیلی افواج کو تحفظ نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا، "(وزیرِاعظم بنجمن) نیتن یاہو کی افواج کو اس زون میں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں