امریکی نائب صدر دورہ امارات میں غزہ تنازع کے حل کے لیے امریکی لائحہ عمل پیش کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج ہفتے کے روز امریکی نائب صدر کمالہ ہیرس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ ختم ہونے پر اہم امریکی اہداف پیش کیے ہیں اور غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو ایک حکومت کے تحت دوبارہ متحد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ہیریس دبئی میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP28) میں ملاقاتوں کی ایک سیریز میں شرکت کریں گی کیونکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے انہیں سربراہی اجلاس میں ان کی نمائندگی کے لیے بھیجا ہے۔ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ہیرس غزہ کے بعد تنازعات کے بارے میں ایک پیغام لے کر جائیں گی کیونکہ اس خطے کو جنگ کے اثرات کا سامنا ہے جس نے مشرق وسطیٰ کو الٹا کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ "اس میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ غزہ میں تنازعات کے بعد کے مرحلے کے لیے کسی بھی منصوبے میں فلسطینی عوام کے لیے ایک واضح سیاسی افق شامل ہونا چاہیے اور غزہ اور مغربی کنارے کے ایک وجود کے تحت دوبارہ اتحاد کو یقینی بنانا چاہیے"۔

فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر حکومت کرتی ہے۔ حماس نے 2007ء میں صدر محمود عباس کی قیادت میں چلنے والی فتح تحریک سے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور تب سے اس کی حکومت ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کا مستقبل

امریکی حکام نے فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے پر بات کی ہے تاکہ وہ اپنے کام کا دائرہ وسیع کر کے غزہ کو بھی شامل کر سکے، لیکن ابھی تک کسی پختہ منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

ہیرس متحدہ عرب امارات کے صدر الشیخ محمد بن زاید آل نہیان سمیت غزہ کی تازہ ترین پیش رفت پر علاقائی رہ نماؤں سے ملاقات اور مشاورت کریں گی۔

وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے کہا کہ "اپنی ملاقاتوں میں نائب صدر غزہ کے تنازعے کے بعد کے حوالے سے اصولوں پر بات کریں گی اور مخصوص تجاویز پیش کریں گی جن کی مدد سے تنازع فلسطین کا دیر پا حل ممکن ہے۔

ہفتے کے روز بعد میں اپنے بیانات میں ہیرس غزہ سے مزید یرغمالیوں کو نکالنے اور دوبارہ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر واپس جانے کی امریکا کی خواہش کا اظہار کریں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں