غزہ میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد تشدد کے دوسرے روزاسرائیل کی جنوبی لبنان پر گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں فلسطینی گروپ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دشمنی کے دوسرے دن ہفتے کے روز اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کے درمیان اسرائیل-لبنان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس کا ایک سپاہی جاں بحق گیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کب۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعہ کو اسرائیلی گولہ باری سے جنوبی لبنان میں تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ حزب اللہ نے کہا کہ ان تین میں سے دو اس کے سپاہی تھے۔

حزب اللہ نے یہ بھی کہا کہ اس نے اسرائیلی پوزیشن پر راکٹ داغے ہیں۔

اسرائیل کی فوج نے کہا کہ لبنان سے داغے گئے دو مارٹر بم جنوبی لبنان کے گاؤں مروہین کی سرحد کے پار شومیرا کے کھلے علاقوں میں گرے۔ فوج نے کہا کہ اس نے بم داغنے کے مقام اور جنوبی لبنان میں دوسری جگہوں پر حملہ کرکے جواب دیا۔

لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فوج (یو این آئی ایف آئی ایل) کے ترجمان نے بتایا کہ اس سے قبل ان کے صدر دفتر کے قریب ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب سے گولہ باری ہوئی جو ساحلی قصبے نقورہ کے قریب اور سرحدی گاؤں رمیچ کے قریب ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے علاقے میں "غیر معمولی سرگرمی" دیکھنے کے بعد نقورہ کے قریب گولہ باری کی۔

ترجمان نے بتایا کہ یو این آئی ایف آئی ایل نے دن 11 بجے (0900 جی ایم ٹی) کے قریب فائرنگ کا پتہ لگایا جو اسرائیل کی طرف اور اسرائیل کی سرحد سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر طائر حرفہ کے علاقے سے ہوئی۔

7 اکتوبر کو حماس اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد حزب اللہ نے سرحد پر اسرائیلی پوزیشنوں پر قریباً روزانہ راکٹ حملے کیے جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے تھے۔ لیکن غزہ جنگ میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران سرحد بہت حد تک پرسکون تھی۔

اسرائیل اور حماس کی اتحادی حزب اللہ کے درمیان 2006 کی جنگ کے بعد سے یہ بدترین لڑائی رہی ہے۔

لبنان میں دشمنی کے دوران 100 سے ذرا زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں سے 83 حزب اللہ کے سپاہی تھے۔ دسیوں ہزار لوگ سرحد کے دونوں طرف نقلِ مکانی کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں