’پودوں سے محبت‘ سعودی عرب خاتون نے کافی کی کاشت میں ’پی ایچ ڈی‘ کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی مہا بنت ماجد السبیعی کو بچپن سے مملکت میں کاشت کی جانے والی ’کافی‘ کی کاشت میں جنون کی حد تک شوق تھا۔ یہ شوق اسے اسی شعبے میں علم تحقیق کے میدان میں لے گیا جہاں اس نے پہلے تو علم نباتات اور اس مضمون میں ’ایم اے‘ کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد اس نے کافی کی کاشت کے حوالے سے مزید تحقیق کے لیے گلوکوبیولوجی میں ماسٹر ڈگری اور پلانٹ پیتھالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

ان کا ہدف سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقوں میں اگائے جانے والے کافی کے پودوں پر ہونے والی بیماریوں پر تحقیق کرنا ہے۔

اس میدان میں سعودی عرب میں پہلے بھی کافی تحقیق کی جا چکی ہےمگر یہ تحقیق مردوں کی حد تک محدود رہی ہے۔ مملکت میں مختلف شعبوں میں تنوع اور تحقیق وریسرچ کے اس شعبے میں مہا بنت ماجد پہلی خاتون ہیں جنہوں نے کافی کی کاشت کےحوالے سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔

مہا نے 60 سے زیادہ فنگل پودوں کو الگ تھلگ کیا اور 2022 میں انہیں جین بینک میں رجسٹر کرایا۔ اسے پودوں کی بیماریوں کی نشاندہی کرنے کا تجربہ ہے اور اس میں کیڑوں کے مربوط انتظام اور فیلڈ کے تجربے میں کافی سرٹیفکیٹ حاصل کیے ہیں۔

مہا نے کئی بین الاقوامی اداروں میں Phytosanitary Department کی نمائندہ کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ ان میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن جیسے ادارے شامل ہیں جوپودوں کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان میں افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن۔

کسانوں کی تربیت

ڈاکٹر مہا بنت ماجد السبیعی نے جازان کے علاقے الدائر گورنری میں جبل طلان میں اپنے زرعی کیرئیر کا آغاز کرنے کے بعد اس نے متعدد کسانوں کو کافی کے پودوں میں بیماریوں کی علامات کا پتہ لگانے اور ان بیماریوں سے نمٹنے کے بہترین طریقوں کی تربیت دینا شروع کی۔ اس نے انہیں سب سے زیادہ رہ نمائی فراہم کی اور اہم اچھے زرعی طریقوں سے روشناس کیا۔

کافی کے شعبے کو فروغ دینا

ڈاکٹر السبیعی نے کافی کے ساتھ اپنے تعلق کو العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ "میں 2021ء کے آغاز میں کافی کے کھیتوں کا دورہ کر کے بہت خوش تھی۔ یہ میرا پہلا سفر تھا جو شدا پہاڑوں کے اوپر اور اطراف میں الباحہ کے علاقے میں کافی کے فارموں کا تھا۔ مجھے ان پہلی لڑکیوں میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو قطعی سائنسی اور تحقیقی اہداف کے لیے میدان میں آئیں اور کافی کی کاشت کو جدید سائنسی انداز میں آگے بڑھانے کا مشن شروع کیا۔

پودوں کی نشوونما

ڈاکٹر مہا السبیعی نے اپنے موجودہ پیشہ وارانہ کاموں کے بارے میں بات کی جو کہ جنگلی اور گھروں میں اگائے جانے والے دونوں طرح کے پودوں کی نشوونما اور نگرانی کے مفاد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد مقامی اور بین الاقوامی تحقیقی ٹیموں کے ساتھ کئی مطالعات کیے ہیں اور ہم جدید ٹیکنالوجی کے کردار کو فعال کر رہے ہیں۔

کافی میں سرمایہ کاری

انہوں نے مزید کہا کہ "جازان کے اپنے پہلے دورے کے بعد میں نے سرمایہ کاری اور سیاحت کے مستقبل کو ان کے تمام پہلوؤں میں دیکھا ہے جو مضبوطی سے سامنے آرہا ہے۔

جازان اپنے خطوں کے تنوع اور زرعی شعبوں کے تنوع کی بدولت سےمملکت میں ممتاز رکھتا ہے۔ اس میں منفرد نباتات بھی شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جازان کے کچھ گورنریوں میں پودوں کا احاطہ اچھی حیاتیاتی تنوع کی خصوصیت رکھتا ہے۔ اس میں جنگلات ہیں جن میں سے بہت سے جنگلات کاشتکاری کے نظام کا حصہ ہیں۔ بہت سے اچھے فارم ، میدان، جزیرے اور مینگروو کے جنگلات سے مالا مال وادیاں، جہاں ماحولیاتی اور زرعی سیاحت کو فروغ دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں