فلسطین اسرائیل تنازع

اگراسرائیل دس لاکھ فلسطینیوں کو سیناء کی طرف دھکیل دے تومصر کیا کرے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) کے کمشنر فلپ لازارینی نے کل ہفتہ کو خبردار کیا کہ جنوبی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملہ دس لاکھ بے گھر افراد کو مصری سرحد کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

لازارینی نے’اونروا‘ کے "ایکس" پلیٹ فارم پر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا "یہ امکان ہے کہ غزہ کے باشندے جنوب اور سرحدوں سے باہر نکلنے پرمجبور ہوجائیں گے‘‘۔

چند گھنٹوں بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی نائب صدر کمیلا ہیرس سے دبئی میں "اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی ’کوپ 28 اجلاس" کے موقع پر ملاقات کی۔

مصری ایوان صدر نے اس حوالے سے کہا کہ ملاقات میں دونوں رہ نماؤں نے صورت حال کی سنگینی پر اتفاق کیا ہے۔ موجودہ صورتحال اور تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ اور ان کو نشانہ بنانے کی روک تھام کے لیے اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو دونوں ممالک کا واضح طور پر مسترد کردیا۔

غزہ میں بے گھر افراد
غزہ میں بے گھر افراد

مصر کا فیصلہ کن جواب

لیکن یہ سوال کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کو سیناء کی طرف ہجرت پر مجبور کرتا ہے تو مصر اس کا کیا جواب دے گا، جب کہ غزہ کی پٹی ایک ایسا علاقہ بن گیا ہے جہاں ضروریات زندگی کا فقدان ہے اور وہ آباد یا رہائش کے قابل نہیں ہے۔

تاہم مصر کے سابق معاون وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ میں اسرائیل کے محکمہ کے سابق ڈائریکٹر سفیر جمال بیومی نے فیصلہ کن لہجے میں کہا کہ ایسا نہیں ہوگا اور اسرائیل اس منظر نامے کو عملی جامہ پہنانے کی جرأت نہیں کرے گا۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب جو خواب دیکھتا ہے وہ ایک خواب ہی رہے گا اور زمین پر اس کی بازگشت نہیں ملے گی، کیونکہ مصر اسے قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی فلسطینیوں کا اپنی سرزمین چھوڑنے کا کوئی ارادہ ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مصری وزارت خارجہ میں اپنے کام کے ذریعے اور وزارت میں اسرائیلی امور کے ڈائریکٹر کے طور پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل اپنی سرزمین سے کسی ایک فلسطینی کو بے گھر نہیں کر سکے گا جس میں کئی وجوہات بھی شامل ہیں، جن میں فلسطینیوں کی طرف سے اپنی سرزمین سے چمٹے رہنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے پاس ایسی اکثریت نہیں ہے جو کسی ایسی تجویز کی حمایت کرے جسے وہ اس حوالے سے اپنائیں یا پیش کریں۔

ناقابل حصول

دوسری طرف انہوں نے نشاندہی کی کہ فتح اور حماس تحریکوں کے درمیان تقسیم ہے، جس کی وجہ سے نقل مکانی پر کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل اور ناقابل حصول ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ "مصر کی سرحدیں محفوظ ہیں اور اگر تل ابیب ایسا کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، کیونکہ مصری فوج اسے قبول نہیں کرے گی۔

لیکن ان کا خیال تھا کہ خدشہ یہ تھا کہ فلسطینی دوسرے ممالک جیسے کہ لاطینی امریکی ممالک میں چلے جائیں گے۔

قدرتی اور مصنوعی رکاوٹیں

دوسری جانب عسکری ماہر سمیر راغب کا خیال ہےکہ سینا کی طرف ہجرت کو روکنے کا خیال سرحد پر قدرتی اور مصنوعی رکاوٹیں قائم کرکے اور غزہ تک خوراک اور امدادی امداد پہنچانے میں سہولت فراہم کرنے سے ممکن ہے تاکہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین میں رہنے میں مدد مل سکے۔ .

انہوں نے العربیہ نیٹ کو بتایا کہ مصر کسی بھی حالت میں فلسطینیوں کی نقل مکانی کی اجازت نہیں دے گا اور اپنی سلامتی، سرزمین اور خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے اگر ضرورت پڑی تو مداخلت کرنے پر مجبور ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں