فلسطین اسرائیل تنازع

عالمی برادری ہمیں غزہ کی جنگ ختم کرنے پر مجبور کردے گی: ایہود اولمرٹ

ہمیں حماس یا فلسطینی اتھارٹی سے صلح کرنا ہوگی،حکومت نے غزہ کا ویژن واضح نہ کیا تو ہم دنیا میں تنہا ہوجائیں گے۔ نیتن یاھو کے اقتدار کا ایک ایک منٹ ملک کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے سے بچنے کے لیے اسرائیل پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ خاص طور پر غزہ میں سولین کی اموات کی تعداد 15,000 سے زیادہ ہونے کے بعد سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری "ان کے ملک کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیلی حکومت کی طرف سےغزہ کے جنگ ختم ہونے کے بعد کے امکانات کے بارے میں عالمی برادر کو مطمئن نہ کیا تو دنیا ہمیں جنگ روکنے پرمجبور کرےگی۔

انہوں نے کل ہفتے کے روز اسرائیلی چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم اگلے مرحلے کے لیے ایک وژن تیار نہیں کرتے ہیں تو ہمیں حماس کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے فوجی آپریشن مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"

اولمرٹ نے طویل عرصے سے موجودہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ "اگر اسرائیل وقت اور عالمی برادری کا صبر حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی سے انخلاء کا اعلان کرنا چاہیے اور دنیا کے سامنے اسے واضح طور پر پیش کرنا چاہیے۔ حماس کے خاتمے کے بعد غزہ کے لیے وژن کے بارے میں دنیا کو کھل کر بتانا چاہیے۔ میں دنیا کو دکھانا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں"۔

"تیار نہیں"

انہوں نے خبردار کیا کہ دو ریاستی حل کے حوالے سے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں حکومت کے موقف کو ظاہر کرنے میں ناکامی سے "ان کا ملک عالمی برادری کی حمایت اور صبر سے محروم ہو جائے گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت "ایسا نہیں کرتی، کیونکہ وہ اس سمت میں کوئی قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ عالمی برادری کو گمراہ کرنا جاری رکھ سکتی ہے"۔

ایہود اولمرٹ نےنشاندہی کی کہ "فلسطینی اتھارٹی ان کے ملک کی دوست نہیں ہے، لیکن دوسری طرف انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود اتھارٹی کی فورسز مغربی کنارے میں ہماری سکیورٹی فورسز کے ساتھ کام کر رہی ہیں، ایسے وقت میں جب ہم غزہ میں لڑ رہے ہیں اور ہمارا کوئی ساتھی نہیں ہے‘‘۔

’’ہمیں اپنے دشمنوں سے صلح کرنی چاہیے‘‘

اولمرٹ نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کے خیال کو مسترد کرنا عالمی برادری کو بتاتا ہے کہ ہمیں مستقبل کے سیاسی حل کی کوئی پرواہ نہیں ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے اپنے آپ کو دھوکہ دیا کہ فلسطین کا مسئلہ ختم ہوچکا مگر وہ اندر ہی اندر سلگتا رہا اور 7 اکتوبر کو ناقابل برداشت انداز میں ہمارے سامنے پھٹ پڑا اور ہمیں اس کا سامنا کرنا پڑا"۔

انہوں نے کہا کہ"ہمیں اپنے دشمنوں کے ساتھ صلح کرنی چاہیے۔ یا تو فلسطینی اتھارٹی یا حماس کے ساتھ"۔

انہوں نے نیتن یاہو نے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاھو اقتدار میں ہر منٹ اسرائیل کو نقصان پہنچاتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں