عراقی سرزمین پر امریکی حملے قبول نہیں، بغداد نے امریکہ کو خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے وزیر اعظم نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر کوئی حملہ قبول نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی نے یہ انتباہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن سے فون پر بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

واضح رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگی وقفوں کے ختم ہونے کے بعد جمعہ کے روز فریقین کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہو چکی ہے ، جس کے بعد خدشہ ہے کہ اس جنگ کے اثرات غزہ سے باہر بھی نظر آ سکتے ہیں۔

پچھلے ماہ اس وقت عراق میں ایک غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی تھی جب 22 نومبر کو امریکی جنگی طیاروں نے عراقی سرزمین پر ایرانی حمیات یافتہ 9 جنگجووں کو بمباری کر کے ہلاک کیا تھا۔

اب جبکہ اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ بمباری شروع کر دی ہے تو اس امر کا امکان موجود ہے کہ عراق اور شام و لبنان میں موجود ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپ بھی اسرائیل کے اندر اپنے اہداف کو نشانہ بنائیں اور عراق و شام کے اندر پچھلے دو ماہ کے دوران والی صورت حال پیدا ہو جائے۔

چند ہی گھنٹے قبل پینٹاگون کے مطابق امریکی جنگی جہازوں نے ایرانی حمایت یافتہ گروپ کے عسکریت پسندوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا۔ پینٹاگون کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ گروپ نے مختصر فاصلے پر مار کرنے والے راکٹوں سے امریکی و اتحادی فوجیوں پر فائر کیے تھے۔

خیال رہے اس تازہ واقعے سے پہلے عراق اور شام میں اسی نوعیت کے حملے کر کے ایرانی حمایت یافتہ گروپ اکتوبر اور ماہ نومبر کے دوران امریکی فوجی اڈوں کو 74 مرتبہ نشانہ بنا چکے تھے۔

عراق وزیر اعظم کے دفتر کے جاری کردہ بیان کے مطابق انٹونی بلینکن کے ساتھ فون پر ہونےوالی اپنی بات چیت میں السوڈانی نے عراقی سرزمین پر کسی بھی ایسے حملے کو مسترد کر دیا ۔

السوڈانی ننے بھی کہا ' عراق کی حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرتے ہوئے بین الاقوامی اتحاد کے کے فوجی مشیروں کا عراق میں موجودگی کے دوران تحفظ کرتی رہے گی۔

امریکی فضائی حملے میں عسکریت پسند گروپ 'پاپولر موبلائیزشن ' کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکی حملے میں 9 جنگجو مارے گئے تھے۔ یہ جنگجو عراق میں حزب اللہ سے ہی منسلک سمجھے جاتے ہیں۔

امریکی فوجی عراقی فوج کی داعش ایسے گروپوں کے خلاف مدد کے لیے موجود ہیں ۔ اس سلسلے میں عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2500 بتائی جاتی ہے۔

تاہم 25 نومبر کو حزب اللہ بریگیڈ کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ اس کے لوگ اسرائیل اور حماس کے جنگ بندی معاہدے کی وجہ سے امریکی اڈوں پر حملے کرنے میں کمی لارہے ہیں ۔ جب یہ جنگ بندی معاہدہ ختم ہو جائے گا پھر حملے کیے جا سکتے ہیں۔

پچھلے منگل کو پینٹاگون نے بھی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی وجہ سے اس کے فوجیوں پر عراق و شام میں حملے نہیں کیے گئے ہیں۔

مگر جمعہ کے روز جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیل اور حماس کی جنگ پھر شروع ہو گئی اور شام میں امریکی فوج نے ایرانی حمایت یافتہ جنگجووں کو جوابی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ شام میں امریکی فوجی اڈے پر 900 فوجی موجود ہیں۔ ان کا مقصد بھی داعش کو نشانہ بنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں