فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی تنظیموں کا انٹرنیشنل کریمنل پراسیکیوٹر سے ملاقات کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی انسانی حقوق کے گروپوں نے ہفتے کے روز بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ فلسطینی اداروں نے ان پر فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باہمی الزامات کے ساتھ غیر مساوی سلوک کرنے کا الزام لگایا ہے۔

خان 7 اکتوبر کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ کی درخواست کے بعد اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے پر ہیں تاہم انہوں نے رام اللہ میں فلسطینی حکام سے ملاقات بھی کی۔

لیکن فلسطینی کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ کریم خان کا بائیکات کررہے ہیں۔ کیونکہ ان کے اس اعتراض پر کہ وہ فلسطینی اور اسرائیلی مسائل سے غیر مساوی سلوک کرتے ہیں۔

کریم خان اسرائیل میں
کریم خان اسرائیل میں

انسانی حقوق کے آزاد کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل عمار الدویک نے کہا کہ "فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کے طور پر ہم نے ان سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میرے خیال میں جس طرح سے اس دورے کو سنبھالا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر خان اپنا کام آزادانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں نہیں کر رہے ہیں"۔

دونوں فریق 7 اکتوبر سے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، جب حماس کے جنگجوؤں نے غزہ کی پٹی کے ارد گرد متعدد اسرائیلی رہائشی کمیونٹیز میں دراندازی کرکے 1,200 اسرائیلیوں کو ہلاک اور تقریباً 240 کو قیدی بنا لیا گیا تھا۔

حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے شروع کیے جو کئی ہفتوں سے جاری ہیں، اس کے علاوہ ٹینکوں اور فوجیوں کے ساتھ زمینی حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک 15 ہزار سے زائد غزہ کے شہری شہید ہوچکےہیں۔

کریم خان اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد اسرائیل کے دورے پر آئے جہاں وہ ان خاندان کے کچھ افراد اور ان کے وکلاء سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

خان نے ہفتے کے روز رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔

محمود عباس نے مسٹر خان سے فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی طرف سے عام شہریوں بالخصوص بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے "جنگی جرائم" کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کو تیز کرنے پر زور دیا۔

فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے خان سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین عدالت اور بین الاقوامی قانون کے لیے ایک امتحان ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ اشتیہ نے غزہ اور مغربی کنارے میں ہونے والے واقعات کو "قتل عام ، اجتماعی سزا اور نسل کشی" قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں