فلسطین اسرائیل تنازع

القسام کے غزہ کے اندر اسرائیلی فوج اور غزہ سے باہر اسرائیلی بستیوں پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہنے والی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں مین مسلسل جنگ جاری ہے۔ دوسری طرف حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ القسام بریگیڈز کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں الشیخ رضوان محلے میں اسرائیلی فوجیوں کی ایک کمک کو نشانہ بنایا ہے۔

ٹینکوں کی غزہ کے اندر دراندازی

القسام بریگیڈز نے آج سوموارکے روز ایک بیان میں مزید کہا کہ اس نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں سے غزہ کی پٹی پر کبوتز نیریم پر حملہ کیا۔

اس نے غزہ کی پٹی کے مشرقی محور میں 5 اسرائیلی ٹینکوں اور 5 عملہ بردار ٹرکوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب درجنوں اسرائیلی ٹینک، فوجی بردارگاڑیاں اور بلڈوزر جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس شہر کے شمال میں واقع قصبے القرارہ میں گھس آئے۔ عینی شاہدین نے پیر کو ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ "زمینی فوجی آپریشنز کے دوران اسرائیلی فوج کے ٹینکوں اور دیگر فوجی گاڑیوں کو خان یونس کے مشرق میں گھستے دیکھا گیا ہے"۔

دیر البلح اور جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی حملوں میں ہلاکتیں

درجنوں ٹینک القرارہ قصبے میں دو کلومیٹر تک داخل ہوئے اور صلاح الدین روڈ کے مکمل طور پر بند ہونے کے بعد اس کے دونوں اطراف میں متمرکز ہو گئے۔ یہ شاہراہ غزہ کو شمالا جنوبا آپس میں ملانے والی سب سے بڑی سڑک ہے۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے شمالی اور وسطی علاقوں پر بمباری جاری رکھی۔ کل سوموار کے روز اس نے دیر البلح پر پُرتشدد حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جب کہ بیت لاھیہ کے شمال میں واقع بے گھر لوگوں کے ایک اسکول کو نشانہ بنایاجس میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔

شمالی غزہ کو جنوب سے الگ کرنے کا دعویٰ

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں زمینی دراندازی کا آغاز کرتے ہوئے شمالی علاقے کو جنوب سے الگ کر دیا تھا۔

کل اتوار کو اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے جنوبی غزہ کے مرکزی شہر خان یونس میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کو توقع ہے کہ حماس کے اعلیٰ ترین رہ نما جن میں یحییٰ السنوار اور اور عسکری ونگ کے کمانڈر محمد الضیف سمیت کئی دوسرے عہدیداروہاں موجود ہیں۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیر دفاع یو آو گلینٹ اور اسرائیلی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ ہرصورت جاری رکھیں گے چاہے انہیں اس میں کئی مہینے ہی کیوں نہ لگیں۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے غزہ کے اطراف میں اسرائیلی بستیوں پر کیےگئے حملے کے بعد اسرائیل نے حماس کو کچلنے کی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ اس جنگ میں اب تک غزہ کی پٹی میں سولہ ہزار کے قریب فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں