فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کی غزہ سے فلسطینیوں کے زبردستی انخلا کی تردید

اقوامِ متحدہ نے اہلیان غزہ کے جبری انخلا پرخطرے کی گھنٹی بجا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوامِ متحدہ نے لاکھوں فلسطینیوں کے پورے علاقے سے انخلا پر مجبور ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جس کے بعد اسرائیل نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کو مستقلاً غزہ میں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور نہیں کرنا چاہتا۔

فلسطینیوں کے منتشر ہونے کی کوئی بھی تجویز عرب دنیا میں انتہائی متنازعہ اور ناقابلِ قبول ہے کیونکہ 75 سال قبل اسرائیل کی تخلیق پر منتج ہونے والی جنگ 760,000 فلسطینیوں کے اخراج یا جبری نقلِ مکانی کا سبب بنی تھی۔ یہ واقعہ نقبہ یا "تباہی" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد غزہ پر حکمرانی کرنے والی حماس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔

فلسطینی سرزمین پر وزارتِ صحت نے 15,500 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع کے ساتھ اسرائیل کی مسلسل بمباری اور زمینی کارروائی کے اثرات بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی وجہ بنے ہیں۔

1 دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے کے بعد ایک فلسطینی زخمی ہو گیا۔ (رائٹرز)
1 دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے کے بعد ایک فلسطینی زخمی ہو گیا۔ (رائٹرز)

جس جنگ بندی نے فلسطینی قیدیوں کے بدلے درجنوں اسرائیلیوں اور دیگر یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنایا، اس کے گذشتہ ہفتے ختم ہو جانے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ میں اپنی جارحیت بڑھا دی ہے۔

او سی ایچ اے نے اپنے تازہ ترین تخمینے میں کہا کہ غزہ میں تقریباً 1.8 ملین افراد جو آبادی کا تقریباً 75 فیصد ہیں، دربدر ہوئے جن میں سے کئی لوگ پرہجوم اور غیر محفوظ پناہ گاہوں میں ہیں۔

 اتوار 19 نومبر 2023 کو خان یونس میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے اقوامِ متحدہ کا فراہم کردہ خیمہ کیمپ۔ (اے پی)
اتوار 19 نومبر 2023 کو خان یونس میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے اقوامِ متحدہ کا فراہم کردہ خیمہ کیمپ۔ (اے پی)

اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: "ہم کسی کو بے گھر کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ہم کسی کو بھی مستقل طور پر کہیں سے منتقل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے عام شہریوں سے میدان جنگ خالی کر دینے کو کہا ہے اور ہم نے غزہ کی پٹی کے اندر ایک مخصوص انسانی زون فراہم کیا ہے۔" وہ المواسی نامی علاقے کے ایک چھوٹے سے ساحلی مقام کا حوالہ دے رہے تھے کیونکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ غزہ کی صورتِ حال "سخت" تھی۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم پوری طرح سے واقف ہیں کہ جگہ اور رسائی محدود ہے اور اسی وجہ سے المواسی کے علاقے میں بنیادی ڈھانچے میں مدد کے لیے بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی قبولیت اور حمایت حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔"

'کوئی جگہ محفوظ نہیں'

اسرائیل نے اپنی کارروائیوں میں توسیع کی تو ویک اینڈ پر اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی کہ غزہ کے لاکھوں باشندے علاقے کے جنوب میں "چھوٹی چھوٹی جگہوں پر محدود اور محبوس ہو رہے تھے"۔

انہوں نے کہا، "غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔"

آدمی اسرائیلی بمباری کے ہلاک شدگان کی لاشوں کی جانچ کر رہے ہیں جس میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا جہاں بے گھر فلسطینی پناہ گزیں تھے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
آدمی اسرائیلی بمباری کے ہلاک شدگان کی لاشوں کی جانچ کر رہے ہیں جس میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا جہاں بے گھر فلسطینی پناہ گزیں تھے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

قبل ازیں جنگ میں اسرائیل کے ہمسایہ اور شریکِ معاہدہ اردن نے خدشہ ظاہر کیا کہ تشدد کی وجہ سے اس کی سرحدوں میں بے گھر افراد کی لہر پھیل سکتی ہے۔

اسی طرح مصر - جس کی سرحد غزہ سے ملتی ہے اور اس نے اسرائیل کے ساتھ ایک امن معاہدے پر بھی دستخط کیے ہوئے ہیں - نے اپنی سرزمین پر بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی نقل و حرکت کے خیال کو مسترد کر دیا ہے۔

کونریکس نے مصر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہم نے وہاں سے کسی بھی لوگوں کو نکالنے کی کوشش نہیں کی۔"

"مصر اس بارے میں بالکل واضح ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں: وہ ایسا نہیں چاہتے۔"

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ "لوگوں کو اپنے گھر غزہ میں رہنے کے قابل ہونا چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں