فلسطین اسرائیل تنازع

سعودی امداد کیسے غزہ میں فلسطینیوں کی مشکلات کم کر رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کے ایس ریلیف کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے سعودی حکومت اور عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر امداد عرب دنیا کی فلسطینیوں کی مدد کے عزم کا اظہار ہے۔

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے عرب نیوز کے پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا جس بڑے پیمانے پر سعودی امداد دے رہے ہیں اس کی کوئی بھی نفی نہیں کر سکتا کیونکہ ’ساہم‘ ویب سائیٹ پر پوری دنیا اسے دیکھ رہی ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان اوائل اکتوبر میں جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی غربت اور خوراک کی کمی کے شکار غزہ کی پٹی میں انسانی اور ترقیاتی امداد کی اشد ضرورت تھی۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیل بمباری کا آغاز سات اکتوبر کو اس وقت ہوا جب حماس نے اسرائیل میں گھس کر حملہ کیا اور سینکڑوں اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا۔

عزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں 15 ہزار سے زائد فلسطینی مارے گئے ہیں جن کی غالب اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

غزہ پر مسلسل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے وہاں کی ابتر ہوتی صورتحال کے پیش نظر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دو نومبر کو ’ساہم‘ پر غزہ کے لیے امداد جمع کرنے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔

اس مہم میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے تین کروڑ ریال اور ولی عہد محمد بن سلمان نے دو کروڑ ریال کے عطیات دیے۔

غزہ کے لیے سعودی عرب کی تاریخ کی سب سے بڑی اور تیز ترین امدادی مہم ایک ایسے وقت میں چلی جب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ عرب دنیا کو غزہ کی کوئی پروا نہیں۔

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے ’فرینکلی سپیکنگ‘ کے کیٹی جینسن کو بتایا کہ ہماری امدادی مہم ابھی تک جاری ہے۔

ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے لوگوں کو روزانہ 400 ٹرک امداد کی ضرورت ہے (فوٹو: ایس پی اے)
ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے لوگوں کو روزانہ 400 ٹرک امداد کی ضرورت ہے (فوٹو: ایس پی اے)

’ہم دس لاکھ ڈونرز سے تجاوز کر چکے ہیں جس سے لوگوں کے جواب اور غزہ میں انسانی اور سویلین آبادی کی صورتحال کے بارے میں لوگوں کے جذبے کا اظہار ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں کے اندر عطیات مزید بڑھ جائیں گی۔ تاریخی امداد میں اجناس کی شکل میں دی جانے والی امداد شامل نہیں ہے۔

ڈاکٹر ربیعہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بزنس مینوں نے ایمبولینسز، طبی آلات، خوراک، بچوں کے لیے دودھ کی امداد دی جو کہ ساہم ویٹ سائیٹ کے ذریعے دی جانے والی کیش امداد میں شامل نہیں۔‘

سعودی عرب سے امداد کی پہلی کھیپ پورٹ سعید پر 25 نومبر کو پہنچی جس میں ایک ہزار ٹن خوراک، طبی امداد، گھر بنانے کا سامان شامل تھا۔ تیسرا جہاز سعودی امداد لے کر جدہ اسلامک پورٹ سے گذشتہ سنیچر کو روانہ ہوا جس میں خواراک کے 300 بڑے کنٹینرز، طبی امداد اور گھر بنانے کے لیے سامان شامل تھے۔

سعودی عرب سے امداد لے کر پہلی پرواز 9 نومبر کو مصر کے العریش ایئر پورٹ روانہ ہوئی۔ یکم دسمبر تک کے ایس ریلف نے غزہ کے لیے 24 پروازیں چلائیں جن کے ذریعے 31 ٹن خوراک پہنچایا گیا۔

ڈاکٹر الربیعہ نے غزہ امداد پہنچانے سے قبل اسرائیل کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی مذمت کی۔

ڈاکٹر الربیعہ، جنہوں نے حال ہی میں مصر کے العریش ایئرپورٹ اور رفح کراسنگ کا دورہ کیا ہے، نے کہا کہ صورتحال بہت زیادہ مشکل ہے۔

ان نے کہا کہ امدادی ٹرکوں کو اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے کلیئر کرنے کے لیے 50 کلومیٹر تک لے جانا پڑتا ہے پھر وہاں سے 50 کلومیٹر طے کرکے واپس لانا پڑتا ہے۔

’ایک ٹرک کو کلیئر کروانے میں کئی دن لگتے ہیں اور اس کے بعد ان کو رفح کراسنگ سے چیک کراکے بھیجنا پڑتا ہے۔ یہ بذات خود ایک بڑا چیلینج ہے۔ اس پراسیس سے امداد ان لوگوں تک پہنچنے میں بہت زیادہ ٹائم لگتا ہے جن کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔‘

ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے لوگوں کو روزانہ 400 ٹرک امداد کی ضرورت ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیل بمشکل 140 ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے دے رہا ہے۔

غزہ مہم میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے تین کروڑ ریال اور ولی عہد محمد بن سلمان نے دو کروڑ ریال کے عطیات دیے۔ (فوٹو: عرب نیوز)
غزہ مہم میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے تین کروڑ ریال اور ولی عہد محمد بن سلمان نے دو کروڑ ریال کے عطیات دیے۔ (فوٹو: عرب نیوز)

’یہ رکاوٹین لوگوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن رہی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ انتہائی ضرور مند افراد جیسا کہ حاملہ خواتین، بچے، بزرگ اور زخمی افراد امداد کی فراہمی میں اتنی تاخیر برداشت نہیں کر سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں