اسرائیل کا تمام فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو تباہ کرنے کا تہیہ۔ اسرائیلی فوجی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا ہدف فلسطین کے تمام مزاحمتی گروپوں کو ختم کرنے اور ان کے فوجی انفراسٹرکچر کوتباہ کرنے کی نیت سے جاری ہیں۔ تاکہ اسرائیل کو لاحق ہونےوالے تمام ممکنہ خطروں سے نمٹا جا سکے۔ اسرائیل کا یہ ہدف صرف حماس کو کنٹرول کرنے تک محدود نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے اس امر کا اظہار منگل کے روز ایک آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اسرائیلی فوجی ترجمان سے حماس کے علاوہ 'دہشت گرد تنظیموں ' کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ جوناتھن کونریکس نے کہا' ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم غزہ میں موجود ہر فوجی ڈھانچے کو تباہ کریں جواسرائیلی شہریوں کے لیے خطرے کا باعث بننے کی اہلیت رکھتا ہو، اس میں حماس بھی شامل ہے اور اسلامی جہاد بھی۔ ان کے علاوہ بعض چھوٹے گروپ بھی ہیں جو زیادہ انتہاپسند دہشت گرد ہیں۔ انہی میں مزاحمتی کمیٹی، دی فلسطین لبریشن فرنٹ اور بعض دوسرے شامل ہیں۔ اس لیے یہ صرف حماس نہیں جسے ہم نے اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔'

انہوں نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا ' ہماری کوشش یہ ہے کہ ایسا کوئی فوجی انفراسٹرکچر باقی نہیں رہنا چاہیے جو اسرائیلیوں کے لیے خطرہ بنا رہے، بلا شبہ ان سب میں محور کی حیثیت حماس کو حاصل ہے، لیکن ہماری جنگ کا دائرہ صرف حماس تک محدود نہیں ہے۔ ہم اسلامی جہاد کے مکمل خاتمے کے لیے اسے بھی سات اکتوبر سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنارہے ہیں۔'

غزہ میں اپنی جنگ کے مقصد کو اجاگر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا ' ہم اپنی یہ جنگ اس وقت تک جاری رکھنا چاہتے ہیں جب تک ان سب گروپوں کو مکمل شکست نہ دے دی جائے، نیز یہ کہ ہم اپنے 137 یرغمالیوں کو رہائی نہ دلوا لیں اور یہ یقین نہ پیدا کر لیں کہ جنگ کے خاتمے کے بعد کسی گروپ میں اب یہ جان باقی نہیں رہی کہ وہ از سر نو لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔'

یرغمالیوں کو حماس نے جن جگہوں پر رکھا ہے ان کے بارے میں انٹیلی جنس کس قدر موجود ہے ؟ اس سوال کے جواب میں کہا ' یہ ہماری اولین ترجیح ہے اور ہمارے انٹیلی جنس کے اداروں کے لیے اہم ترین ہے، اس سوال کو مختصر ترین جواب ہاں میں ہے ، ہمارے پاس ' ڈیٹا ' موجود ہے، لیکن مجھے اس کو آپ کے ساتھ شئیر کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے، ان معلومات کو باہر لانے سے ہماری کوششوں کو مستقبل میں دھچکا لگ سکتا ہے، تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ہماری ترجیح اول ہے۔'

جوناتھن کونکریس نے مزید کہا ' اسرائیل نے تہیہ کر رکھا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو واپس لائے گا، بہت اچھی بات یہ ہو گی کہ تمام یرغمالی بات چیت کے ذریعے واپس آجائیں اگر یہ ممکن نہ ہوا تو ہم تمام تر طریقوں کو بروئے کار لائیں گے۔'

واضح رہے اس سے قبل فوجی ترجمان رئیر ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے ان بقیہ اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد 137 بتائی تھی۔

جوناتھن کونریکس اس سوال پر ' حماس کے لوگوں کے رفح کے ساتھ مصر کی طرف فرار ہوجانے اکا کتنا امکان ہے؟ ' کہا ' ہمیں اس بارے میں تشویش موجود ہے، یہ ایسی چیز ہے جس کی اسرائیلی خفیہ ادارے مانیٹرنگ کر رہے ہیں، ہم جنگ سے پہلے سے یہ جانتے ہیں کہ حماس نے غزہ میں زیر زمین سرنگوں کر بہت بڑا نیٹ ورک بنا رکھا ہے، اس نے یہ کوشش اسرائیل میں بھی کی تھی کہ اسرائیل میں بھی زیر زمین سرنگیں بنا سکے، اسی طرح کی سرنگیں رفح اور مصر کی طرف بھی ہیں، لیکن میرے پاس حماس کی ان سرنگوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات نہیں ہیں، تاہم یہ مفروضہ موجود ہے کہ ان میں سے کئی کھلی ہیں اس لیے خطرہ بھی موجود ہے، اس لیے ان کی مانٹرنگ اسرائیلی انٹیلی جنس کر رہی ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں