امریکی افواج کے خلاف کسی حملے میں حصہ نہیں لیا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

منگل کو ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی کے حوالے سے کہا کہ ان کا ملک امریکی افواج کے خلاف کسی کارروائی یا حملے میں شریک نہیں ہے۔

ایروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا کہ "میں ایک بار پھر اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ایران نے امریکی مسلح افواج کے یونٹوں پر کسی بھی حملے میں حصہ نہیں لیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے پر امریکا کے الزامات قطعی طور پر بے بنیاد ہیں"۔

تہران کا خیال ہے کہ یہ تمام بیانات اسرائیل کی طرف سے اپنی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزیوں کو جواز فراہم کرنے اور شام اور مشر وسطیٰ میں اپنے جرائم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے سوموار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ واشنگٹن کے پاس یہ ماننے کی وجہ ہے کہ یہ حملے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں میں ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بحیرہ احمر کے جنوب میں بین الاقوامی پانیوں میں تین تجارتی بحری جہازوں پر چار حملوں کی تصدیق کی ہے اور ان کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔

پینٹاگان کی نائب ترجمان سبرینا سنگھ نے کہا کہ امریکی افواج بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر انصار اللہ تحریک (حوثیوں) کے حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ حوثی 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے گئے غیر معمولی حملے کے بعد سے اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے حملے کر رہے ہیں۔

حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ گذشتہ ہفتے سے قبل انہوں نے آبنائے باب المندب کو عبور کرنے والے اسرائیل کے اتحادیوں کے جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں