انتہا پسند اسرائیلی وزیر بن گویر کی ’اوچھی‘ حرکتیں، اسلحہ لائسنسنگ کا سربراہ مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت میں شامل انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر اپنے متنازع اور پرتشدد خیالات کی وجہ سے عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہے ہیں مگر ان کے بعض متنازع فیصلے اور اقدامات خود ان کی حکومت پر بھاری ثابت ہوتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ انتہا پسند اسرائیلی وزیر دفاع ’ایتمار بن گویر‘ کے اقدامات نہ صرف ان کے مخالفین کی طرف سے تنازع اور تنقید کو جنم دیتے ہیں بلکہ ان کی وزارت کے کام کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وزیر موصوف کی انہی اوچھی حرکتوں کی وجہ سے محکمے کے آتشیں اسلحہ لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اسرائیل ایوشر نے اتوار کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا۔

بن غفير

جبکہ ایوشر، جو چھ سال تک اس عہدے پر فائز رہے، نے اپنے فیصلے کی وجہ ہتھیاروں کے لائسنس دینے کے حوالے سے بن گویر کے اقدامات کو قرار دیا۔

غیر تربیت یافتہ

انہوں نے کہا کہ وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے غیر تربیت یافتہ ملازمین کے ایک گروپ کو ہتھیاروں کے لائسنس دینے کا اختیار دیا جو اسرائیلی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا تھا۔

یہ تیسرا سینئر اہلکار ہے جس نے حال ہی میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی سے استعفیٰ دیا ہے۔ اس سے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے سخت گیر طرز عمل پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔

خاص طور پر چونکہ بن گویر نے اس سے قبل بڑے پیمانے پراس وقت تنازعے کو جنم دیا تھا جب گذشتہ اکتوبر میں غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی آباد کاروں کو ہتھیار تقسیم کرتے دیکھا گیا تھا۔

اس نے اس وقت اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس نے آباد کاروں کو "اپنے دفاع کے لیے 10,000 ہتھیاروں کی فراہمی کی ہدایت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں