جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان لڑائی میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج اور فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے درمیان منگل کے روز جنوبی غزہ میں زبردست لڑائی جاری رہی۔ اقوام متحدہ نے اس جنگ کے بارے میں کہا ہے کہ اب تک کی غزہ میں یہ سب سے زیادہ خطرناک جنگ جس نے غزہ کو جہنم بنا دیا ہے جوفلسطینی شہریوں کو سکڑتی چلی جانے والی پٹی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

شمالی غزہ میں ابتدائی طور پر جنگ کے بعد اسرائیلی زمینی فوج اپنی فضائیہ کی مدد کے ساتھ جنوبی غزہ سمیت غزہ کے کئی اضلاع میں پھیل رہی ہے۔

پیر کے روز شہریوں نے جن اسرائیلی ٹینکوں کو جنوبی غزہ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تھا ان میں سے حماس نے منگل کو دعوی کیا ہے کہ ایک ٹینک تباہ کر دیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوجیوں کو لانے والی دو گاڑیوں کو بھی تباہ کیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خان یونس اور دیگر علاقوں میں حماس اور اس کر ساتھی مزاحمتی گروپوں کے خلاف زیادہ جارحانہ لڑائی شروع کر رکھی ہے۔ خیال رہےخان یونس کا علاقہ نقل مکانی کر کے آنے والے لوگوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے جنوبی اسرائیل کے علاقے بیر شیبا کی طرف راکٹ حملے کئے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے 'مذکورہ علاقے میں سائرن بجا دیے گئے تھے۔'

خیال رہے اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف سات اکتوبر کو جنگ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب تک اس جنگ میں 16000 کے قریب لوگ شہید ہوچکے ہیں ان شہداء میں ستر فیصد عورتیں اور بچے ہیں ۔ اب غزہ میں کوئی جگہ بھی فلسطینی عوام کے لیے محفوظ نہیں رہی ہے ۔

اسرائیل نے پیر کے دن کہا تھا کہ وہ فلسطینی شہریوں کو مستقل طور پر اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور نہیں کر رہا، بلکہ انہیں غزہ کے ایک چھوٹے سے ساحلی علاقے المواسی میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے امدادی گروپوں سے تعاون مانگ رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہم عام شہریوں سے میدان جنگ سے نکلنے کے لیے کہہ رہے ہیں، اس مقصد کے لیے فوج نے غزہ کی پٹی کے اندر ایک مخصوص انسانی زون قائم کیا ہے۔' خیال رہے کتابچوں کے ذریعے بھی فلسطینی شہریوں کو اپنے علاقے چھوڑ کر مقرر کردہ جگہ پر چلے جانے کے لیے کہا جارہا ہے۔

فوج یہ پیغامات موبائل فونز کے ذریعے بھی پہنچانے کا دعویٰ کرتی مگر پیر کے روز سے فون کی تمام سروسز پہلے سے بند ہیں۔ عالمی فون نیٹ ورک بھی غزہ میں مکمل مواصلاتی لاک ڈاؤن کی تصدیق کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ایک روز قبل ہی اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے جو کچھ شمالی غزہ میں کیا تھا وہی کچھ جنوبی غزہ میں کرے گی ۔ عالمی ادارے صلیب احمر کی سربراہ نے بھی غزہ کی صورتحال کو انسانوں کے لیے ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت کے ساتھ اسرائیل کی یہ جنگ تیسرے ماہ میں میں داخل ہورہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں