ریاض سیزن میں پاکستان کا ثقافتی ہفتہ، سعودی دارالحکومت میں رنگا رنگ پرفارمنس

ثقافتی ہفتے نے پاکستانی تارکینِ وطن کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی متوجہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی مملکت کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (جی ای اے) کی ایک سینئر اہلکار نے پیر کے دن بتایا کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے سالانہ تہوار ریاض سیزن میں زائرین کے لیے توجہ کا مرکز بننے والے پاکستان کے ثقافتی ہفتے میں رنگا رنگ پرفارمنس، فنون اور اشتہا انگیز کھانوں کا غلبہ رہا۔

جی ای اے کے مطابق سالانہ تہوار جو سیاحت اور قومی ورثے کو فروغ دینے کے لیے سعودی سیزنز کے اقدام کا حصہ ہے، 28 اکتوبر کو شروع ہوا اور اگلے سال مارچ تک جاری رہے گا۔ دلچسپ تہواروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے 2.7 ملین سے زیادہ لوگ پہلے ہی سیزن میں شرکت کر چکے ہیں۔

سعودی دارالحکومت کے مرکز میں واقع السویدی پارک میں یہ میلہ پہلے سات ہفتوں میں سات ثقافتوں کو نمایاں کر رہا ہے تاکہ زائرین پاکستان، سوڈان، بھارت، نیپال، فلپائن، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کی متنوع روایات کو دیکھیں۔

27 نومبر سے 3 دسمبر تک جاری رہنے والے پاکستان کے ثقافتی ہفتے نے پاکستانی تارکینِ وطن اور مقامی لوگوں کے پرجوش ہجوم کو میلے کی طرف راغب کیا۔ اس تقریب میں پاکستانی فنکاروں کی شاندار اور متحرک پرفارمنس، لذیذ کھانے اور ملبوسات کے اسٹالز اور جنوبی ایشیائی ملک کا مشہور ٹرک آرٹ پیش کیا گیا۔

جی ای اے کی ایک مشیر نوشین وسیم نے عرب نیوز کو بتایا۔ "پررونق اسٹیج پرفارمنس کے علاوہ تقریب میں روایتی پاکستانی لباس کی نمائش کرنے والا ثقافتی بازار، مستند پاکستانی کھانوں کی پیشکش کرنے والی ایک فوڈ اسٹریٹ اور ٹرک آرٹ کا ایک دلکش مظاہرہ پیش کیا گیا جس میں پاکستانی فنکاروں نے رکشوں اور گاڑیوں کو زینت بخشی۔"

جی ای اے کی مشیر کے مطابق ایک پریڈ کے تعارف نے پاکستانی ثقافت کے متنوع پہلوؤں کو نمایاں کیا جس میں روایتی لباس اور ثقافتی بینڈ شامل ہیں۔ اس میں پاکستانی دولہا اور دلہن کی عکاسی کی گئی ہے جو جی ای اے کے مشیر کے مطابق سب کے لیے توجہ کا مرکز بن گئے۔

انہوں نے کہا، "پاکستانی ثقافت کے مختلف عناصر کو شامل اور یکجا کرنے والے کثیر جہتی نقطۂ نظر نے نہ صرف ہر ایک کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں بلکہ ثقافتی روابط کو بھی فروغ دیا جو خوشی اور مسکراہٹیں پھیلانے کے جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے ہدف کو پورا کرتا ہے۔"

پاکستانی فنکارائیں 01 دسمبر 2023 کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں پاکستان کے ثقافتی ہفتے میں اپنے روایتی لباس میں پرفارم کر رہی ہیں۔ (نوشین وسیم)
پاکستانی فنکارائیں 01 دسمبر 2023 کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں پاکستان کے ثقافتی ہفتے میں اپنے روایتی لباس میں پرفارم کر رہی ہیں۔ (نوشین وسیم)

"چونکہ ہم اپنے وژن 2030 کے مطابق ثقافتوں کو ضم کرنے کے لیے گرمجوشی سے کام کر رہے ہیں تو ہمارے پاس خوشگوار طور پر سعودی فنکار موجود تھے جن میں اردو میں پرفارم کرنے والا ایک باصلاحیت سعودی گلوکار بھی شامل تھا۔"

وسیم کے مطابق مملکت میں مقیم 2.5 ملین سے زیادہ پاکستانیوں نے انہیں پاکستان کے ثقافتی ہفتے کے لیے ترغیب و تحریک دی۔ اس سے حاضرین کے لیے ایک خوش کن اور عمیق تجربہ پیدا ہوا اور پاکستانی تارکینِ وطن کو اپنائیت اور گھر کا سا احساس ملا۔

انہوں نے کہا، "مملکت میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ سعودی بھی تقریبات سے لطف اندوز ہونے کے لیے پنڈال میں جمع ہو گئے۔ فیسٹیول نے 30 دنوں سے بھی کم عرصے میں 2.7 ملین سے زائد زائرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور پاکستان کا ثقافتی ہفتہ سب کے لیے توجہ کا مرکز بنا رہا۔"

ریاض میں بطور ٹریڈ مینیجر کام کرنے والے پاکستانی وقار نسیم وامق نے کہا کہ کمیونٹی کی جانب سے زبردست ردِعمل ان کی اس خواہش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک اپنے وطن کے ثقافتی پروگرام دیکھیں۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "مملکت میں پاکستانی کمیونٹی ہمیشہ اپنے پاکستانی اداکاروں اور شخصیات کی سعودی عرب میں آمد کو پسند اور ان کا خیرمقدم کرتی ہے اور اپنے درمیان ان کی موجودگی سے لطف اندوز ہوتی ہے۔"

"ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت سعودی حکومت کا غیر ملکی برادری کو شامل کرنا اور بین الاقوامی ثقافتوں کو پیش کرنا ایک بہت اچھا قدم ہے۔"

وسیم نے کہا پاکستان کی کافی زیادہ اہمیت ہے کیونکہ اس کی افرادی قوت نے ویژن 2030 کے مطابق مملکت کی ترقی میں فعال کردار ادا کیا ہے جو ایک تزویراتی ترقیاتی فریم ورک ہے جس کا مقصد مملکت کا تیل پر انحصار کم کرنا اور صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، تفریح اور سیاحت جیسے عوامی خدمات کے شعبوں کو ترقی دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "غیر ملکیوں کی آبادی کو دوگنا کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزارتوں اور حکام کی مشترکہ کوششوں کا مقصد ثقافتی اور تفریحی اقدامات کے ذریعے پاکستان جیسے بیرونی ممالک کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے جس سے 2030 تک 13 ملین غیر ملکیوں کے بلندپایہ ہدف کے حصول کی راہ کو تقویت ملے گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں