فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں صورتحال ناقابل برداشت ہے،شہریوں کو محفوظ بنایا جائے: صلیب احمر سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صلیب احمر کی صدر نے پیر کے روز جنگ زدہ غزہ میں پہنچنے پر کہا ہے کہ فلسطینی علاقے میں شہریوں کو محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا غزہ میں انسانی مشکلات اور مصائب ناقابل بیان ہو چکے ہیں۔

صلیب احمر کی سربراہ مرجانا سپولجارک کا علاقے کا دورہ ممکنہ طور پر کئی مراحل میں ہو گا۔ جیسا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں اسرائیل کو دورہ بھی کرنے والی ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا 'میں غزہ پہنچ گئی ہوں، مگر یہاں انسانی مشکلات ناقابل برداشت ہیں۔' یہ ناقابل قبول ہے کہ غزہ میں شہریوں کے لیے کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ جاری فوجی محاصرے میں کوئی ایسا اقدام ممکن نہیں جسے ان مشکلات میں انسانی ردعمل کہا جا سکے۔'

اندازہ کیا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی صلیب احمر کمیٹی جن کا ادارہ آجکل حماس اور اسرائیلی دونوں کی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے آنے والے دنوں میں غزہ میں کچھ بفرزونز جیسی محفوظ تقسیم کو دیکھنا چاہتا ہے تاکہ محفوظ حصوں میں محدود کیے گئے جنگ زدہ فلسطینیوں کو انسانی رد عمل کے ثمرات یعنی انسانی بنیادوں پر امداد فراہم ہو سکے۔

اسی طرح کا مطالبہ اور حکمت عملی اسرائیل کے سب سے بڑے حامی ملک امریکہ کی طرف سے تجویز کی جا رہی ہے۔امریکہ جنگ کے پھیلاؤ کو اسرائیل کی سٹریٹیجکل شکست ہونے کی تشویش میں مبتلا ہے اور جنگ کو دائروں کے اندر تک محدود کرنے کا حامی ہے۔

ادھر غزہ پہنچنے والی صلیب احمر کی سربراہ نے اسرائیلی یرغمالیوں تک صلیب احمر کے ادارے کی رسائی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے، اس لیے امکان ہے کہ اگر اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی جنگ بندی طے پائی تو صلیب احمر اور بعض دیگر طاقتیں اس بارے میں بھی کوئی مطالبے سامنے لائیں گی۔

صلیب احمر کی سربراہ نے سوشل میڈیا پر اپنے جاری کردہ بیان میں زور دے کر مطالبہ کیا ہے کہ یرغمالیوں کو ضرور رہائی ملنی چاہیے اور صلیب احمر کے نمائندوں کو پوری حفاظت کے ساتھ یرغمالیوں سےملنے کیا اجازت ہونی چاہیے'

صلیب احمر کی سربراہ کا یہ دورہ جمعہ کے روز سے دوبارہ شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری کے تناظر میں بد ترین جنگی ماحول میں شروع کیا گیا ہے۔ جمعہ سے پیر کے روز تک اسرائیل نے 10000 فضائی حملے کیے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 15500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں 70 فیصد عورتیں اور بچے ہیں۔

صلیب احمر کی سربراہ نے پچھلے ہفتے کے دوران محدود پیمانے پر غزہ میں انسانی بنیادوں پر فراہم کیے گئے امدادی سامان کو ایک مثبت جھلک قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے دنیا میں غزہ کے حوالے سے کچھ امید پیدا ہوئی۔ کہ غزہ کے لوگوں کی مشکلات میں اب کچھ کمی کرنے کی راہ نکل سکتی ہے۔

میرجانا سپولجارک نے مزید کہا ' ایک غیر سرکاری اداکار ہونے کے ناطے صلیب احمر انسانی بنیادوں پر مزید ایسے معاہدوں کی حمایت کرتا ہے جو دلوں کو توڑنے والی مشکلات میں کمی کا باعث بن سکیں۔ '

ان کا کہنا تھا ' ان کے دورے کا مقصد انسانی پریشانی میں کمی کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ میں اس پر اپنی گہری تشویش سے آگاہ کروں گی جو عام شہری یہاں انتہائی مشکلات برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے لیے صلیب احمر وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کرے گا جو ان کے مصائب میں کمی لانے کا باعث بن سکتی ہوں۔'

صلیب احمر کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ان کی سربراہ اپنے اس دورے کے دوران یورپین ہسپتال کا بھی دورہ کریں گی جو انسانی زندگیاں بچانے کے لیے کوششوں میں مصروف ہے۔

سپولجارک نے کہا اپنے بیان میں مزید کہا ' ہم نے فوری بنیادوں پر اپیل کی ہے کہ شہری زندگیاں بچانے کے لیے ہر طرف سے بین الاقوامی انسانی بنیادوں اور قوانین کا احترام کیا جائے ، میں آج پھر اپنی اس اپیل کا اعادہ کرتی ہوں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں