غزہ میں قصر العدل کی عمارت سیکنڈز میں ملبے کا ڈھیر بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیلی فوج نے گذشتہ اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں اپنی جاری فوجی کارروائیوں میں رہائشی عمارتوں اور ان کے مکینوں، حتیٰ کہ سرکاری اور نجی اداروں کی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں سے تازہ ترین واقعہ مدینۃ الزہرہ میں واقع قصر العدل کی عمارت ہےجسے میزائل حملے میں تباہ کر دیا گیا۔

سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دھماکے کے لمحے کو دکھایا گیا، جس نے عمارت کو سیکنڈوں میں ملبے میں تبدیل کر دیا۔ ایک زور دار دھماکہ ہوتا ہے جس کے بعد عمارت ریزہ ریزہ اور دھوئیں میں ڈھکی دیکھی جا سکتی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے پٹی کے مرکز میں داخل ہونے کے بعد قصر العدل کے سامنے فوجی جوانوں کی تصاویر شائع کی تھیں۔

قابل ذکر ہے کہ حماس کی قیادت میں غزہ کی حکومت نے اس عمارت کی تعمیر شروع ہونے کے دو سال بعد 2018 میں قطری حکومت کی مالی امداد سے اسے مکمل کیا تھا۔

غزہ کی پٹی میں داخلے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کا قصر العدل میں گروپ فوٹو
غزہ کی پٹی میں داخلے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کا قصر العدل میں گروپ فوٹو

یہ عمارت 10,000 مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر کی گئی تھی اور غزہ کی پٹی کے وسط میں 11 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے پانچ منزلوں اور زیر زمین گوداموں پر مشتمل تھی۔ اسے غزہ میں عدالت کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں