’انہیں المواصی‘ کی طرف جانے دو‘ اسرائیلی سفیرہ کے متنازع بیان پر غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"وہ المواصی کے علاقے میں جا سکتے ہیں، کیونکہ وہ جگہ محفوظ ہے"۔ یہ الفاظ لندن میں اسرائیلی سفیر زپی ہوتویلی کے ہیں جنہوں نے ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل نے غزہ کے مکینوں کے لیے ایک محفوظ مقام کی موجودگی کی تصدیق کی ہے اور یہ مقام المواصی کا علاقہ ہے۔"

انہوں نے کل برطانوی ٹی وی چینل اسکائی نیوز نیٹ ورک کے ساتھ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں مزید کہا کہ المواصی ایک ایسا علاقہ ہے جس میں کوئی بھی پناہ لے سکتا ہے۔ ہم نے اور امدادی تنظیموں نے وہاں فلسطینیوں کو پناہ دی ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسرائیل امدادی تنظیموں کے ساتھ اس معاملے میں کوئی سہولت فراہم نہیں کر رہا ہے‘‘۔

یاد رہے کہ المواصی غزہ میں ایک دیہی علاقہ ہے جہاں رہائش اور بنیادی انسانی ضروریات کا کوئی انتظام نہیں۔ اسرائیلی سفیرہ کا یہ بیان خود ان کے لیے ایک مشکل بن گیا کیونکہ انہیں ہر طرف سے سخت تنقید کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کوئی امداد نہیں

مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔ برطانوی نیٹ ورک کی دستاویز کے مطابق جو فلسطینی وہاں پہنچے ہیں، وہ ریت کے ٹیلوں کی بنجر زمینوں پر مشکل حالات کا شکار ہیں۔

خاص طور پر چونکہ یہاں کوئی امدادی تنظیمیں نہیں ہیں۔ بین الاقوامی ایجنسیوں کے خیمے نہیں ہیں اور کھانا پکانے کی جگہیں نہیں ہیں۔

المواصی ایک زرعی علاقہ ہے جس میں بہت زیادہ عمارتیں نہیں ہیں اور یہ بے گھر افراد کو پناہ دینے کے لیے موزوں نہیں۔

یہ وادی غزہ کے جنوب مشرق میں 12 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر بھی واقع ہے جو شمال میں دیر البلح، خان یونس گورنری اور جنوب میں رفح گورنری تک تقریباً ایک کلومیٹر کی گہرائی میں پھیلی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں