"حماس کےایک رُکن کےساتھ دوعام شہریوں کا قتل ’مثبت‘ شرح ہے"!

اسرائیلی عہدیدار کے اشتعال انگیز بیان پر سوشل میڈیا پر سخت برہمی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بار بار زور دینے کے باوجود اسرائیلی فورسز نے منگل کے روز جنوبی غزہ کی پٹی پر اپنی فضائی اور زمینی بمباری جاری رکھی، جس میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔

تازہ ترین اسرائیلی بیانات میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے منگل کو’سی این این‘ سے بات کرتے ہوئے ایک اشتعال انگیز بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے ہر رُکن کے لیے دو فلسطینی شہریوں کی ہلاکت ایک "بہت مناسب شرح" ہے۔ اسرائیلی فوجی عہدیدار کے اس اشتعال انگیز بیان پر سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

کرنل جوناتھن کونریکس نے امریکی نیوز نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ میڈیا نے اسرائیلی فوج کے اس تصور کے حوالے سے جو رپورٹ دی ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں حماس کے ہر رکن کے بدلے دو فلسطینی شہری مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس رپورٹ کی تصدیق کر سکتا ہوں۔

اسرائیلی ترجمان کا خیال ہے کہ فوج نے حالیہ دنوں میں غزہ میں غیر محفوظ علاقوں کی نشاندہی کے لیے جو نظام نافذ کیا ہے وہ "مثالی نہیں تھا" لیکن انھوں نے کہا کہ سات اکتوبر کے بعد بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی کارروائیوں میں سولہ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 40 ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوچکےہیں۔

غزہ پر پرتشدد اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ اسرائیل کے قریبی اتحادی امریکا نے کہا ہے کہ جنوب میں اسرائیلی حملے کو شمال میں شہریوں کے "بھاری" نقصانات کے مطابق نہیں دہرانا چاہیے۔

زمین پر موجود رہائشیوں اور صحافیوں نے بتایا کہ جنوبی ساحلی پٹی میں شدید اسرائیلی فضائی حملوں میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اسرائیل نے رہائشیوں کو پناہ لینے کو کہا تھا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جس سے غزہ میں پہلے سے بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال میں مزید اضافہ ہو اور شہری مزید مشکلات کا شکار ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں