اسرائیلی بمباری سے لبنانی فوجی کی ہلاکت، امریکہ کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایک لبنانی فوجی کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے پر امریکہ کو بہت تشویش ہے۔ لبنان کی فوج صرف لبنان ہی نہیں پورے علاقے کی سلامتی و استحکام کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔ امریکی حکام نے اس امرکا اظہار لبنان میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی ہلاکت پر' العربیہ ' کے ساتھ گفتگو میں کیا ہے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس امریکی ذمہ دار کا کہنا تھا ' امریکہ نے اسرائیل کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ امریکہ غزہ جنگ کا لبنان کی طرف پھیلاؤ نہیں دیکھنا چاہتا۔ نیلی لکیر کے ساتھ امن کو قائم رکھنا امریکہ کے لیے بہت اہم ہے، اس لیے اسرائیل اور لبنان کی بھی یہ اہم ترین ترجیح رہنی چاہیے۔'

اس سے قبل لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا ' جنوبی لبنان میں اس کے ایک اڈے پر بمباری کی گئی ہے ، جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور تین مزید زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ سات اکتوبر کے بعد براہ راست اسرائیلی بمباری سے لبنانی فوجیوں کی ہلاک و زخمی ہونے کا پہلا واقعہ ہے۔

ابھی چند روز قبل ہی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دھمکی دی تھی 'اگر حزب اللہ نے حملے جاری رکھے تو اسرائیل لبنان کو بھی تباہ کر دے گا۔' تاہم اس پس منظر میں کسی متعلقہ ذمہ دار نے اسرائیلی بمباری کو بیان نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے کہا ہے ک اس نے اسرائیل پر جوابی حملہ کر کے اسرائیل کے کئی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کر دیا ہے۔

امریکہ سے متعلقہ ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے امریکی حکام کے ساتھ لبنانی فوج کی ہلاکت کے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک حادثاتی واقعہ پیش آیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس واقعہ پر اظہار افسوس کے لیے ایک معذرت بھی جاری کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اپنے طور پر اس واقعے کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے یہ اسرائیلی بمباری کا ہدف حزب اللہ کا ایک ٹھکانہ تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ اسرائیل اور لبنان کی سرحد پرامن برقرار رکھنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں