فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج کی 'شدید لڑائی' کی اطلاع، حماس اور اسلامی جہاد کے کارکنان شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں "شدید لڑائی" جاری رکھے ہوئے ہے اور فضائی حملوں میں حماس اور اسلامی جہاد کے متعدد کارکنان شہید ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا، گذشتہ روز اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی میں تقریباً 250 "دہشت گرد اہداف" پر حملہ کیا اور فوجی دستے ہتھیاروں، زیرِ زمین (سرنگوں کے) دہانوں، دھماکہ خیز مواد اور اضافی فوجی ڈھانچے کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا: "[اسرائیلی فوج] کے زمینی دستوں نے ایک لڑاکا طیارے کو دو راکٹ لانچرز پر حملہ کرنے کی ہدایت کی جہاں سے مزاحمت کاروں نے منگل کو وسطی اسرائیل کی طرف راکٹوں کی بوچھاڑ کی تھی۔ اس کے علاوہ فوجیوں نے اسرائیلی فضائیہ کے ایک طیارے کو دیر البلاح کے علاقے میں حملہ کرنے کی ہدایت کی۔ ان حملوں کے دوران حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے مزاحمت کاروں کو ختم اور ان کے زیرِ استعمال متعدد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا۔

حماس اور اسلامی جہاد نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مزید برآں اسرائیلی فوجیوں نے شمالی غزہ کی پٹی میں ایک اسکول کے برابر کام کرنے والے ایک "مسلح دہشت گرد سیل" کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے مزید کہا: "اس کے بعد فوجیوں نے اسکول کے علاقے میں واقع ایک اضافی زیرِ زمین (سرنگ کے) دہانے پر حملہ کیا۔ شمالی غزہ کی پٹی کے ایک اور اسکول میں ہتھیار اور گولہ بارود کا پتا لگایا گیا۔"

دوسری جانب فلسطینی خبر رساں ایجنسی وافا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی افواج نے "جنوبی، وسطی اور شمالی غزہ کی محصور پٹی پر شدید گولہ باری" جاری رکھی۔

فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 16,250 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بزرگ افراد ہیں۔ اس کل تعداد میں وہ 1,240 افراد شامل ہیں جو یکم دسمبر کو انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے خاتمے کے بعد جاں بحق ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں