اسرائیل میں"طوفان الاقصیٰ" سے 5 دن قبل اسٹاک مارکیٹ حصص کی فروخت کی کیا وجوہات تھیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نیویارک اور کولمبیا یونیورسٹیوں کے قانون کے پروفیسرز کی تحقیق کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کے کچھ سرمایہ کاروں کو ہو سکتا ہے کہ حماس کی طرف سے گذشتہ 7 اکتوبر کو کیے گئے "طوفان الاقصیٰ" آپریشن کے بارے میں پہلے سے علم ہو۔

ماہرین ایسا اس لیے کہہ رہے ہیں کہ حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے غیرمعمولی حملے سے پانچ دن قبل اسرائیلی اسٹاک مارکیٹ میں غیرمسبوق تیزی دیکھی گئی اور بڑے بڑے کاروباری بروکرز نے اپنے حصص فروخت کردیے تھے۔

جیکسن جونیئر اور اس کے ساتھی جوشوا مچ نے "دہشت گردی میں تجارت" کے عنوان سےایک رپورٹ مرتب کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حملے سے 5 دن پہلے MSCI کے مقبول ترین فنڈ میں مختصر فروخت میں "اہم اور غیر معمولی اضافہ" ہوا تھا۔

تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ فروخت "بہت زیادہ" تھی جو کہ کرونا وبا کے ساتھ ساتھ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 2008 اور 2014 کی جنگوں کے دوران ہونے والی ٹریڈنگ سے زیادہ تھی"۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو ان المناک واقعات سے فائدہ ہوا۔

تحقیق سے پتا چلا کہ 2 اکتوبر کو حملے سے صرف 5 دن پہلے "مختصر فروخت MSCI فنڈ کے اوور دی کاؤنٹر ٹریڈنگ والیوم کے تقریباً 100 فی صد کی نمائندگی کرتی تھی۔ ایسے لگتا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے کے بارے میں اسرائیلی اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کو حملے کا امکان تھا۔ انہوں نے تیزی سے شیئرز فروخت کیے۔

محققین نے زور دیا کہ ان کے نتائج "ابتدائی" ہیں اور وہ مخصوص تاجروں کو ان لین دین سے منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی ذرائع کی معلومات کی نشاندہی کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی ریگولیٹری ایجنسیوں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور فنانشل انڈسٹری ریگولیٹری اتھارٹی، یا مختصر طور پر، FINRA کے پاس غیر عوامی ڈیٹا تک رسائی ہے جس سے تفتیش کاروں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ 7 اکتوبر سے پہلے مارکیٹوں نے کیوں اور کیسے برتاؤ کیا۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ حملے سے پہلے کے دنوں میں تل ابیب سٹاک ایکسچینج پر تجارت کی جانے والی اسرائیلی سکیورٹیز پر شرطیں "ڈرامائی طور پر بڑھ گئیں"۔ اسے اسرائیل کے سب سے بڑے بینکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس بینک کے حصص کی قیمتیں 4 سے 23 اکتوبر کے درمیان 23 فیصد تک گر گئیں۔ تاہم امریکی تبادلے پر تجارت کی جانے والی اسرائیلی کمپنیوں میں شارٹ سیلنگ میں کوئی یکساں اضافہ نہیں ہوا، حالانکہ محققین نے نوٹ کیا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کچھ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں حملوں کے نتیجے میں زیادہ طلب سے فائدہ اٹھائیں گی۔

تحقیق میں امریکی اسٹاک ایکسچینج میں تجارت کی جانے والی اسرائیلی کمپنیوں کے حصص کے قلیل مدتی معاہدوں میں اضافہ پایا گیا۔ محققین کا کہنا تھا کہ یہ بہت ساری تجارتوں سے منسلک ہے۔ ان تجارتی سودوں کے پیچھے بہت کم کاروباری کھلاڑیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ 7 اکتوبر کے حملے سے قبل تل ابیب اسٹاک ایکسچینج میں شارٹ سیلنگ میں "نمایاں" اضافہ مارکیٹ میں اس گراوٹ سے پہلے موجود نہیں تھا جو جولائی میں عدالتی اصلاحات کے قانون کی منظوری کے بعد ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں